مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 139 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 139

دوسری شادیاں ۱۳۹ مضامین بشیر حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد آپ نے حضرت عائشہ اور حضرت سودہ کے ساتھ شادی کی اور ہجرت کے بعد تو حالات کی مجبوری کے ماتحت آپ کو بہت سی شادیاں کرنا پڑیں اور آپ کی خانگی ذمہ داریاں بہت نازک اور پیچیدہ ہو گئیں مگر بایں ہمہ آپ نے عدل وانصاف کا ایک نہایت کامل نمونہ دکھایا اور کسی ذراسی بات میں بھی انصاف کے میزان کو اِدھر اُدھر جھکنے نہیں دیا۔آپ کا وقت آپ کی توجہ آپ کا مال آپ کا گھر اس طرح آپ کی مختلف بیویوں میں تقسیم شدہ تھے کہ جیسے کسی مجسم چیز کو ترازو میں تول کر تقسیم کیا گیا ہو۔اور اس خانگی بانٹ کے نتیجہ میں آپ کی زندگی حقیقہ ایک مسافرانہ زندگی تھی۔اور آپ کا پروگرام حیات آپ کے اس قول کی ایک زندہ تفسیر تھا جو آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ كن في الدنيا كعابرى سبيلك یعنی انسان کو دنیا میں ایک مسافر کی طرح زندگی گزارنی چاہیئے۔“ بیویوں میں کامل عدل مگر با وجود اس کامل عدل و انصاف کے آپ فرماتے تھے کہ اے میرے خدا میں اپنی طاقت کے مطابق اپنی بیویوں میں برابری اور مساوات کا سلوک کرتا ہوں لیکن اگر تیری نظر میں کوئی ایسا حق وانصاف ہے جس سے میں کوتاہ رہا ہوں اور جو میری طاقت سے باہر ہے تو تو مجھے معاف فرما۔آپ کا یہ عدیم المثال انصاف اس وجہ سے نہیں تھا کہ آپ کے دل میں اپنی ساری بیویوں کی ایک سی ہی قدر اور ایک سی ہی محبت تھی کیونکہ تاریخ سے ثابت ہے اور خود آپ کے اپنے اقوال سے بھی پتہ لگتا ہے کہ آپ کو اپنی بعض بیویوں سے ان کی ممتاز خوبیوں اور محاسن کی وجہ سے دوسری بیویوں کی نسبت زیادہ محبت تھی۔پس آپ کا یہ انصاف محض انصاف کی خاطر تھا۔جسے آپ کی قلبی محبت کا فرق اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکا۔مرض الموت میں جب کہ آپ کو سخت تکلیف تھی اور غشیوں تک نوبت پہنچ جاتی تھی آپ دوسروں کے کندھوں پر سہارا لے کر اور اپنے قدم مبارک کو ضعف و نقاہت کی وجہ سے زمین پر گھسیٹتے ہوئے اپنی باری پوری کرنے کے خیال سے اپنی بیویوں کے گھروں میں دورہ فرماتے تھے حتی کہ بالآخر خود آپ کی ازدواج نے آپ کی تکلیف کو دیکھ کر اصرار کے ساتھ عرض کیا کہ آپ عائشہ کے گھر میں آرام فرما ئیں ہم اپنی باری