مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 138 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 138

مضامین بشیر ۱۳۸ کے قلب پر پیدا کیا۔جو خاوند اپنی روز مرہ زندگی کے واقعات سے اپنی بیوی کے دل ودماغ میں وہ اثرات پیدا کر سکتا ہے جن کا ایک چھوٹے پیمانہ کا فوٹو ان الفاظ میں نظر آتا ہے۔اس کی پاکیزہ خانگی زندگی اور حسن معاشرت کا اندازہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔حضرت خدیجہ کے انتقال کا صدمہ حضرت خدیجہ ہجرت سے کچھ عرصہ قبل انتقال فرما گئیں اور ان کی وفات پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت صدمہ ہوا اور لکھا ہے کہ ایک عرصہ تک آپ کے چہرہ پر غم کے آثار نظر آتے رہے اور آپ نے اس سال کا نام عام الحسون رکھا۔ان کی وفات کے بعد جب کبھی ان کا ذکر آتا تھا آپ کی آنکھیں پُر نم ہو جاتی تھیں۔ایک دفعہ حضرت خدیجہ کی بہن آپ سے ملنے کے لئے آئی اور دروازہ پر آکر اندر آنے کی اجازت چاہی ان کی آواز مرحومہ خدیجہ سے بہت ملتی تھی۔یہ آواز سن کر آپ بے چین ہو کر اپنی جگہ سے اٹھے اور جلدی سے دروازہ کھول دیا۔اور بڑی محبت سے ان کا استقبال کیا جب کبھی باہر سے کوئی چیز تحفہ آتی تھی۔آپ لازماً حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کو اس میں سے حصہ بھیجتے تھے اور اپنی وفات تک آپ نے کبھی اس طریق کو نہیں چھوڑا۔بدر میں جب ستر کے قریب کفار مسلمانوں کے ہاتھ قید ہوئے تو ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد یعنی زینب بنت خدیجہ کے خاوند ا بو العاص بھی تھے۔جو ابھی تک مشرک تھے۔زینب نے ان کے فدیہ کے طور پر مکہ سے ایک ہار بھیجا۔یہ وہ ہار تھا جو مر حومہ خدیجہ نے اپنی لڑکی کو جہیز میں دیا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہار کو دیکھا تو فوراً پہچان لیا اور حضرت خدیجہ کی یاد میں آپ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔آپ نے رقت بھری آواز میں صحابہ سے فرمایا یہ ہارخدیجہ نے زینب کو جہیز میں دیا تھا۔تم اگر پسند کرو تو خدیجہ کی یہ یادگار اس کی بیٹی کو واپس کر دو۔صحابہ کو اشارہ کی دیر تھی۔انھوں نے فوراً واپس کر دیا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہار کی جگہ ابو العاص کا یہ فدیہ مقرر فر مایا کہ وہ مکہ جا کر زینب کو فور آمدینہ بھیجوا دیں۔اور اس طرح ایک مسلمان خاتون (اور خاتون بھی وہ جو سرور کائنات کی لخت جگر تھی ) دار کفر سے نجات پا گئی۔حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زندہ بیوی کے متعلق کبھی جذبات رقابت نہیں پیدا ہوئے لیکن مرحومہ خدیجہ کے متعلق میرے دل میں بعض اوقات رقابت کا احساس پیدا ہونے لگتا تھا۔۔کیونکہ میں دیکھتی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے بڑی محبت تھی اور ان کی یاد آپ کی دل کی گہرائیوں میں جگہ لئے ہوئے تھی۔