مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 88 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 88

مضامین بشیر ۸۸ اول نمبر پر ڈاکٹر صاحب کا نام نامی ہوگا۔اور پھر ان کے ہم مشرب رفقاء کے اسماء گرامی ہوں گے کیونکہ جب تک یہ بزرگان ملت کسی مشورہ میں شریک نہ کئے جائیں اس وقت تک بھلا مشورہ کا مفہوم کب پورا ہوتا ہے! کہنے کی بات نہیں ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ایک گروہ ہر بات میں مشورہ کے لئے اپنے آپ کو آگے کر دیتا تھا اور اگر ان سے مشورہ نہ لیا جا تا تھا یا ان کا مشورہ قبول نہ کیا جاتا تھا تو ان کے تیور بدلنے شروع ہو جاتے تھے کہ اہل الرائے تو ہم ہیں اور مشورہ نعوذ باللہ بے وقوف اور جاہل لوگوں کا مانا جاتا ہے۔مکرم ڈاکٹر صاحب اگر حضرت صاحب کی یہ بات مشورہ کے طور پر ہی تھی تو پھر بھی آپ کو حسد میں جلنے کی کوئی وجہ نہیں۔حضرت صاحب خدا کی طرف سے مامور تھے انہوں نے جس سے چاہا مشورہ لیا اور جس سے اہانہ لیا۔حدیث کھول کر دیکھئے کیا کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج سے مشورہ نہ لیتے تھے ؟ کیا صلح حدیبیہ کے وقت آپ نے ایک بڑے اہم امر میں سارے اہل الرائے صحابہ کو چھوڑ کر صرف اپنی بیوی ام سلمہ سے مشورہ نہیں لیا ؟ اور کیا ام سلمہ کے اس مشورہ سے آئمہ حدیث نے عورتوں سے اہم امور میں مشورہ لینے کا جواز نہیں نکالا۔اور کیا امام قسطلانی نے اس مشورہ کے متعلق یہ نوٹ نہیں لکھا کہ فيــه فـضـيـلـة ام سلمة ووفور عقلها۔یعنی اس واقعہ سے ام سلمہ کی فضیلت اور کمال دانشمندی ثابت ہوتی ہے۔پھر کیا آپ نے اپنی بیوی عائشہ کے متعلق یہ نہیں فرمایا کہ تم نصف دین اس سے سیکھو۳۲۔گویا نہ صرف خودا اپنی بیویوں سے مشورہ لیا بلکہ امت کو بھی حکم دیا کہ ان سے مشورہ لیا کرو۔اندریں حالات اگر حضرت صاحب نے اپنی بیوی سے کسی امر میں مشورہ لے لیا تو حرج کون سا ہو گیا۔اور وہ کون سا شرعی حکم ہے جس کی نا فرمانی وقوع میں آئی ؟ کیا نبی کی بیوی جو دن رات اس کی صحبت اور تربیت سے مستفید ہوتی ہے اور نبی کے بعد خدائی نشانات کی گویا سب سے بڑی شاہد ہے مشورہ کی بالکل نا اہل سمجھی جانی چاہیئے۔اور ڈاکٹر صاحب اور ان کے ہم مشرب رفقاء بڑے بڑے اہل الرائے جن کے مشورہ کے بغیر کوئی قومی کام سرانجام نہیں پاسکتا ؟ اگر یہی تھا تو نعوذ باللہ خدا نے سخت غلطی کھائی کہ حضرت صاحب کو بار بار یہ الهام فرمایا کہ اِنّى مَعَكَ وَمَعَ اَهْلِكَ ۳۳۔یعنی میں تیرے ساتھ اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں۔اور ڈاکٹر صاحب اور ان کے دوستوں کا کہیں ذکر تک نہیں کیا۔میں واقعی حیران ہوں کہ آخر کس بنا پر ڈاکٹر صاحب نے یہ خیال قائم کیا ہے کہ نبی کی بیوی اہم امور میں مشورہ کی اہل نہیں ہوتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بڑے بڑے امور میں اپنی بیویوں سے مشورہ فرماتے تھے اور پھر صحابہ کبار بڑے بڑے مسائل میں اپنی بیویوں سے مشورہ پوچھتے تھے۔اور ان میں سے بعض کی قوت استدلال واستخراج کا خصوصیت کے ساتھ لوہا مانتے تھے۔چنانچہ حضرت عائشہ کے متعلق لکھا ہے کہ کان اکابر