مضامین بشیر (جلد 1) — Page 87
۸۷ مضامین بشیر سے اٹھتے ہیں وہ اس بات کے بھی اہل نہیں ہیں کہ حضرت میاں صاحب کی خدا دا دا اہلیت اور قابلیت کو سمجھ تک سکیں۔چہ جائیکہ اس کی گہرائیوں تک ان کو رسائی حاصل ہو۔یہ بات میں نے خوش عقیدگی کے مبالغہ آمیز طریق پر نہیں کہی۔بلکہ علی وجہ البصیرت اس پر قائم ہوں اور جو بھی معقول طریق اس کے امتحان کا مقر ر کیا جا سکے اس کے لئے تیار ہوں۔باقی رہی انجمن کی عہدہ داری سو شائد اس کے متعلق ڈاکٹر صاحب کو یہ خیال ہوگا کہ چونکہ ان کے داماد جناب مولوی محمد علی صاحب حضرت مسیح موعود کے سامنے انجمن کے سیکرٹری رہے تھے۔اس لئے نیم خلافت ان کی تسلیم کی جانی چاہیئے۔اور اس نعمت عظمی سے حضرت میاں صاحب محروم کلی ہیں! افسوس ہے کہ جب انسان تعصب کا شکار ہوتا ہے تو اس کی بصیرت پر پردہ پڑ جاتا ہے بھلا حضرت کی جانشینی اور انجمن کی عہدہ داری کے درمیان کون سا طبیعی رشتہ ہے اور اگر ڈاکٹر صاحب کے نزدیک کوئی رشتہ ہے تو میں بادب یہ عرض کرتا ہوں کہ چونکہ حضرت صاحب کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب نے خلیفہ ہونا تھا اس لئے حضرت صاحب نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کو پریذیڈنٹ مقرر فرمایا۔اور چونکہ حضرت مولوی صاحب کے بعد خدا کے علم میں حضرت میاں صاحب کی خلافت تھی اس لئے حضرت مولوی صاحب نے اپنی جگہ حضرت میاں صاحب کو انجمن کا صدر مقرر کیا اور اگر اس استدلال کو اور آگے چلا یا جائے تو کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ مولوی محمد علی صاحب نے کبھی بھی خلیفہ نہیں بننا تھا اس لئے وہ ہر زمانہ میں صدرانجمن کی صدارت سے محروم رہے، بلکہ ڈاکٹر صاحب کے اصول کے مطابق حضرت صاحب کے زمانہ میں ان کے سیکرٹری بننے نے ہمیشہ کے لئے اس بات کا فیصلہ کر دیا کہ وہ صرف ایک ماتحت عہدہ پر کا رکن رہ سکنے کے اہل ہیں، کسی سلسلہ انتظام کی انتہائی باگ دوڑ ان کے ہاتھوں میں نہیں دی جاسکتی وغیرہ ذالک۔مکرم ڈاکٹر صاحب آپ ان منہ کی پھونکوں سے قلعہ خلافت کی دیواروں میں رخنہ پیدا نہیں کر سکتے۔سوائے اس کے کہ مفت میں اپنی خفت کروائیں۔آپ نے بڑے ظلم اور دل آزاری کے طریق سے کام لیا ہے، اور گو میں آپ کی ہر بات کا ترکی بہ ترکی جواب دے سکتا ہوں مگر مجھے خدا کا خوف ہے اور میں اپنے اخلاق کو بھی بگاڑ نا نہیں چاہتا۔یہ بھی جو میں نے بعض جگہ کسی قدر بلند آواز اختیار کی ہے یہ محض نیک نیتی سے آپ کے بیدار کرنے کی غرض سے کی ہے ورنہ میرا خدا جانتا ہے کہ میرا سینہ اب بھی آپ کے لئے سوائے ہمدردی کے جذبات کے اور کوئی جذبات اپنے اندر نہیں رکھتا۔پھر ڈاکٹر صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت صاحب کو اگر اس معاملہ میں انسانی مشورہ کی ضرورت تھی تو بڑے بڑے صاحب الرائے لوگوں سے مشورہ کر سکتے تھے۔مگر افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ان بڑے بڑے صاحب الرائے لوگوں کی کوئی فہرست نہیں دی۔غالبا اس فہرست میں