مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 72 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 72

مضامین بشیر ۷۲ کا قلب خدا کے شکر و امتنان کے جذبات سے معمور رہے اور دوسرے یہ کہ وہ اس نکتہ کو بھول کر کسی مخفی شرک میں مبتلا نہ ہو کہ دنیا کا کارخانہ خواہ کتنے ہی لمبے سلسلہ اسباب کے ماتحت چل رہا ہو ، اس کا اصل چلانے والا صرف خدا ہی ہے اور باقی ہر اک چیز اس کی خادم اور اس کے قبضہ تصرف کے نیچے ہے۔والا اگر اس حدیث کا یہ منشاء نہ ہوتا تو عبارت اس طرح ہونی چاہئے تھی کہ بارشیں ستاروں کے اثر کے ماتحت نہیں ہوتیں بلکہ فلاں فلاں سبب سے ہوتی ہیں۔پس ستاروں کی تاثیر کے مقابلہ میں کسی دوسرے سبب کا بیان نہ کرنا بلکہ خدا کے فضل اور رحمت کا نام لینا جو الاسباب ہے صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہاں ستاروں کی تاثیر کا انکار مقصود نہیں بلکہ ان کی تا شیر کو تسلیم کرتے ہوئے اس مواحدانہ نکتہ کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ ہر انعام کو خدائے واحد کے فضل و رحمت کی طرف منسوب کرنا چاہیئے۔مثلاً اگر کوئی شخص یہ کہے کہ یہ نہ کہو کہ عمر جو بیمار تھا وہ زید کے علاج سے اچھا ہوا ہے بلکہ یہ کہو کہ خدا کے فضل نے اسے اچھا کیا ہے تو اس کے یہ صاف معنی ہوں گے کہ علاج تو زید کا ہی تھا لیکن شفایابی کی نسبت خدا کی طرف ہوئی چاہیئے جس نے زید کو صحیح اور درست علاج کی توفیق دی۔مسب خلاصہ یہ کہ سبب کے مقابلہ میں مسبب کا ذکر نہ کرنا اس وجہ سے نہیں ہوا کرتا کہ وہ سبب غلط ہے بلکہ اس لئے کہ اصل نام لینے کے قابل مسبب ہے اور اگر سبب کی نفی مقصود ہو تو اس کے مقابلہ میں مسبب کو نہیں بلکہ کسی دوسرے سبب کو لایا جاتا ہے۔پس ثابت ہوا کہ حدیث مذکورہ بالا میں ستاروں کی تاخیر کی نفی نہ کرتے ہوئے خدا کے فضل و رحمت کا نام نہ لینا اس بات کا صاف ثبوت ہے کہ ستاروں کی تاثیر برحق ہے۔باقی ایمان و محبت کا یہ تقاضا ہونا چاہیئے کہ تمام انعامات ارضی و سماوی کی نسبت خدا کے فضل و رحمت کی طرف کی جائے اور درمیانی وسائط کو ان کا باعث قرار دے کر خدا کے فضل و رحمت کو مشکوک نہ بنایا جائے۔الغرض اس حدیث سے ستاروں کی تاخیر کا وجو د ثا بت ہے۔و ہوالمراد اگر یہ کہا جائے کہ اس حدیث سے یہ کہاں پتہ چلتا ہے کہ تا شیر سماوی کی وجہ سے دن بھی اپنی برکات و تاثیرات کے لحاظ سے ایک دوسرے سے متفاوت ہیں تو اس کے متعلق مندرجہ ذیل حدیث پیش کرتا ہوں۔ضَّلَ اللَّهُ عَنِ الْجُمُعَةِ مَنْ كَانَ قَبلنا، فَكَانَ لِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبُتِ، وَكَانَ لِلْنَصَارَى يَوْمُ اللَّا حَدِ، فَجَاءَ اللَّهُ بِنَا، فَهَدَانَا اللَّهُ لِيَؤْمِ الْجُمُعَة - ٢٠