مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 616 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 616

مضامین بشیر ۶۱۶ اسلام چونکہ ایک عالمگیر مذہب ہے جو سارے زمانوں کے لئے آیا ہے۔اس لئے ضروری تھا کہ اس میں ہر زمانہ کی مشکلات اور ہر زمانہ کے مسائل کے حل موجود ہوں۔جو اپنے اپنے وقت پر ظاہر ہو کر دنیا کی بیماریوں کا علاج پیش کر سکیں۔یہ ساری چیزیں بالقوۃ طور پر اسلام میں ہمیشہ سے موجود تھیں مگر ان کا اظہار و انکشاف ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق ہوتا رہا ہے۔اسی طرح جس طرح یہ مادی دنیا ہمیشہ سے موجود ہے مگر اس کے مخفی خزانوں کا اظہار و انکشاف ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق ہوتا رہا ہے۔چنانچہ دنیا کے اقتصادی مسائل کا حل بھی اسلام میں شروع سے کافی اور شافی طور پر موجود تھا مگر اس کے بعض پہلو جو قبل از وقت ہونے کی وجہ سے پہلے زمانوں کے لوگوں سے مخفی رہے ہیں یا ان کی اہمیت کی طرف پہلے لوگوں کی توجہ نہیں گئی وہ اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے موجودہ زمانہ کی ضرورت کے مطابق نمایاں ہو کر ظاہر ہو رہے ہیں اور آیت إِنْ مَنُ شَيْ ءٍ إِلَّا عِندَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُدَةٍ لَهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ لا کے ارشاد کے مطابق قیامت تک ظاہر ہوتے چلے جائیں گے۔مختصر طور پر اسلام نے جن بنیادی احکام کے ذریعہ دنیا کے اقتصادی نظام کی تباہ کن انتہاؤں کا انسداد کیا ہے وہ یہ ہیں : - (۱) اسلام کا قانونِ ورثہ جو دوسرے نظاموں کی طرح صرف بڑے لڑکے یا صرف لڑکوں یا صرف اولا دہی کو وارث قرار نہیں دیتا بلکہ تمام اولا د اور ماں اور باپ اور بیوی یا خاوند سب کو وارث بناتا ہے اور ان وارثوں کے نہ ہونے کی صورت میں بہنوں اور بھائیوں اور دوسرے عزیزوں کو بھی ان کا واجبی حق دیتا ہے۔بلکہ ورثہ کے متعلق مرنے والے کو ایک تہائی وصیت کا اختیا ر دے کر دولت کی مزید منصفانہ تقسیم کا دروازہ کھول دیتا ہے۔(۲) اسلام کا حکم درباره سود، جس کی رو سے سود کے لین دین کو قطعی طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔اور سود وہ تباہ کن چیز ہے جو نہ صرف دنیا میں خطرناک جنگ وجدال کا موجب ہوتی ہے بلکہ قوم کی دولت کو چند افراد کے ہاتھوں میں جمع کر دینے اور باقیوں کو قلاش بنا دینے کا بہت مؤثر ذریعہ ہے۔(۳) اسلام کا حکم دربارہ جوا بازی ، جس کی رو سے جوئے کو قطعاً ممنوع کر دیا گیا ہے اور جو ا وہ خطرناک چیز ہے جو دولت کمانے کو محنت اور قابلیت پر مبنی قرار دینے کی بجائے محض اتفاق پر مبنی قرار دیتی ہے۔جس سے افراد کی دولت کی مناسب اور منصفانہ تقسیم میں بھاری رخنہ پیدا ہوسکتا ہے۔