مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 615 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 615

۶۱۵ ۱۹۴۵ء مضامین بشیر اسلام میں نظام زکوۃ کے اصول تاریخ عالم کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ ہر زمانہ کے الگ الگ مسائل ہوتے ہیں اور الگ الگ مشکلات اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں موجودہ زمانہ کے مادی مسائل میں سے سب سے زیادہ اہم اور سب سے زیادہ قابل توجہ مسئلہ قومی اقتصادیات کا مسئلہ ہے یعنی یہ کہ سامان معیشت کے پیدا کرنے کے ذرائع اور افراد و اقوام میں دولت کی تقسیم کے طریق کن اصول پر مبنی ہونے چاہئیں۔آج کل کی بیشتر سیاست خواہ وہ کسی ملک کے ساتھ تعلق رکھتی ہو اسی خاردار مسئلہ کے ساتھ لیٹی ہوئی ہے اور احمدیت کو بھی آگے چل کر اسی مسئلہ کے ساتھ دو چار ہونا ہے۔بہر حال موجودہ زمانہ کے تمام نظامات کسی نہ کسی پہلو سے اس مسئلہ کے ساتھ براہ راست وابستہ ہیں۔چنانچہ انگلستان و امریکہ کی سرمایہ داری اور روس و جرمنی کی سوشلزم ( جو روس میں کمیونزم اور جرمنی میں نیشنل سوشلزم کی صورت میں قائم ہے۔اسی پیچد ارمسئلہ کی مختلف شاخیں ہیں جو بعض ممالک میں ایک انتہاء کی طرف اور بعض ممالک میں دوسری انتہاء کی طرف جھک گئی ہیں۔اور ہر دور بین آنکھ دیکھ رہی ہے کہ اگر ان انتہاؤں نے جلدی ہی کوئی عملی مفاہمت کی صورت اختیار نہ کی تو ایک تیسری عالمگیر جنگ اور غالباً سب جنگوں سے زیادہ ہولناک جنگ ہمارے دروازے پر کھڑی ہے۔بلکہ جیسا کہ بائیل اور قرآن وحدیث کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات اور مکاشفات میں بھی صراحت کے ساتھ پایا جاتا ہے یہ تیسری جنگ بہر حال ہونے والی ہے کیونکہ نہ دنیا نے اپنے طور پر اصلاح کی طرف قدم اٹھانا ہے اور نہ خدا کی اس از لی تقدیر نے ٹلنا ہے اور اسلام واحمدیت کے غلبہ کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ مغرب کی مادی طاقتیں آپس کے ایک آخری ہیبت ناک ٹکراؤ میں آکر تباہ ہوں اور ان کے کھنڈروں پر دنیا کے نئے نظام کی بنیاد رکھی جائے۔کیونکہ قضائے آسمان است اس بہر حالت شود پیدا