مضامین بشیر (جلد 1) — Page 538
مضامین بشیر ۵۳۸ خلافت کا نظام مذہب کے دائمی نظام کا حصہ ہے اور خدا تعالی کی ازلی نقد سر کا ایک زبردست کرشمہ کا قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ بطور اصول کے ارشاد فرماتا ہے کہ دنیا میں دو طرح کی چیزیں پائی جاتی ہیں۔ایک وہ جن کا وجود محض عارضی اور وقتی حالات کا نتیجہ ہوتا ہے اور ان میں بنی نوع انسان کے کسی حصہ کے لئے کوئی حقیقی فائدہ مقصود نہیں ہوتا اور دوسری وہ جو نظام عالم کا حصہ ہوتی ہیں اور لوگوں کے لئے ان میں کوئی نہ کوئی فائدہ کا پہلو مقصود ہوتا ہے۔مقدم الذکر چیزیں دُنیا میں جھاگ کی طرح اُٹھتی اور جھاگ کی طرح بیٹھ جاتی ہیں مگر مؤخر الذکر چیز میں جم کر زندگی گزارتی ہیں اور انہیں دُنیا میں قرار حاصل ہوتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے :- " فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ فِي الأرض۔یعنی جھاگ کی قسم کی چیز تو آنا نا نا گزر کر ختم ہو جاتی ہے۔مگر نفع دینے والی چیز جم کر زندگی گزرتی ہے اور دُنیا میں قرار حاصل کرتی ہے۔“ اس اصل کے ماتحت ہم صحیفہ قدرت پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں یہ لطیف منظر نظر آتا ہے کہ جو چیز بھی دنیا کے لئے کسی نہ کسی جہت سے مفید ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس کے قائم رہنے کے لئے کوئی نہ کوئی انتظام کر رکھا ہے۔حتی کہ ادنیٰ سے ادنی جانوروں اور حقیر سے حقیر جڑی بوٹیوں کی بقاء نسل کا انتظام بھی موجود ہے اور قدرت کا مخفی مگر زبردست ہاتھ انہیں مٹنے اور نا پید ہو جانے سے بچائے ہوئے ہے۔صحیفہ عالم کے زیادہ گہرے مطالعہ سے یہ بات بھی مخفی نہیں رہ سکتی کہ جتنی کوئی چیز بنی نوع انسان کے لئے زیادہ مفید ہوتی ہے ، اتنا ہی خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی حفاظت کا انتظام زیادہ پختہ اور زیادہ وسیع ہوتا ہے۔قرآن شریف کی حفاظت کا وعدہ بھی اسی اصل کے ماتحت ہے۔