مضامین بشیر (جلد 1) — Page 200
مضامین بشیر ۲۰۰ پھر ۲ ۲ مئی ۱۹۰۵ کو الہام ہوا کہ : - صَدَّقَنَا الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَالِكَ نَجْزِي الْمُتَصَدِّقِينَ ۷۳ یعنی ہم نے تیرے رویا کو سچا کر کے دکھایا اور ہم اسی طرح نیکوکاروں کے ساتھ سلوک کرتے ہیں۔“ اس الہام کو بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے زلزلہ کی طرف منسوب فرمایا ہے چنانچہ فرماتے ہیں کہ : - اس پیشگوئی کے متعلق جو زلزلہ ثانیہ کی نسبت شائع ہو چکی ہے۔آج ۲۲ مئی ۱۹۰۵ء کو بوقت پانچ بجے صبح خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی ( یعنی وحی مندرجہ بالا ) ہوئی۔۴ کے پھر ۲۳ مئی ۱۹۰۵ء کو الہام ہوا کہ : - زمین تہ و بالا کر دی۔اِنّى مَعَ الْأَفْوَاجِ اتِيْكَ بَغْتَةً ۷۵ یعنی ایک تباہ کن زلزلہ آنے والا ہے۔جبکہ خدائے ذوالجلال اپنی فوجوں کے ساتھ تیری صداقت کے اظہار کے لئے اچانک آئے گا“ یہ سارے الہامات موعودہ زلزلہ کے بارے میں ایک کڑی کی صورت میں نازل ہوئے ہیں اور آہ نادرشاہ کہاں گیا“ والے الہام کے ساتھ ملا کر اتارے گئے ہیں۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ خدا کے علم میں ہمیشہ سے یہ مقدر تھا کہ نادر شاہ بادشاہ افغانستان کے قتل کا واقعہ اور یہ زلزلہ عظیمہ ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے وقوع پذیر ہوں گے۔خوب غور کر لو کہ ۱۹۰۵ء میں اللہ تعالیٰ ان الہامات کو جو دو بالکل مختلف واقعات سے تعلق رکھتے تھے۔ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر نازل کرتا ہے۔اور پھر ۲۸ سال کے لمبے عرصہ کے بعد وہ ایک دوسرے کے ساتھ اسی طرح آگے پیچھے ہو کر پورے ہوتے ہیں۔جس طرح ۲۸ سال پہلے انہیں اتارا گیا تھا۔کیا یہ ایک اتفاقی امر ہے یا کہ قدرت کے ہاتھوں کا ایک پیوند ہے جوازل سے جوڑا گیا ؟ الغرض زلزلہ کے متعلق مندرجہ بالا الہامات کو آہ نادر شاہ والے الہام کے ساتھ ملا کر نازل کرنے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ صاف اشارہ تھا کہ یہ دونوں پیشگوئیاں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ پوری ہوں گی۔یعنی پہلے نادر شاہ کی دردناک وفات کا واقعہ پیش آئے گا اور پھر یہ تباہ کن زلزلہ ظاہر ہوگا۔چنانچہ دیکھ لو کہ پیش گوئی کے ۲۸ سال بعد نومبر ۱۹۳۳ء میں کنگ نادر شاہ قتل ہوئے اور اس