مضامین بشیر (جلد 1) — Page 192
مضامین بشیر ۱۹۲ کر رہا ہے۔میں اس منظر کے بیان کرنے سے قاصر ہوں جو میں نے وہاں دیکھا ۵۳ اخبار ملاپ کا ایڈیٹر اپنے چشم دید حالات لکھتا ہے کہ :- زلزلہ کی وجہ سے ایسی سخت مصیبت آئی ہے کہ جس کا بیان کرنا نہ صرف مشکل بلکہ تو اریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ان حالات کے بیان کرنے سے دل لرزتا ہے۔۔۔۔۔مسلمانوں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ طوفان نوح آ گیا ہے یہ کیفیت پانی کے سیلاب سے ہوئی۔بڑے بڑے لکھ پتی اس وقت درختوں کے نیچے چادر وغیرہ تانے ہوئے پڑے ہیں۔۵۴ پھر لکھتا ہے کہ : - اٹھائیس برس کے بعد ایک بار پھر ہندوستان نے ایک خوفناک بھونچال کو دیکھا ہے۔۱۹۰۵ء میں ضلع کانگڑہ میں تباہی مچی تھی اور اب کے بہار واڑیسہ اور نیپال میں ہیبت ناک بر بادی ہوئی ہے۔بھونچال کے وقت کئی کئی فٹ مکانات معہ بنیا دوں کے زمین کے اوپر اچھلے ہیں۔کنوؤں کا پانی فوارے کی طرح باہر نکلا ہے اور اپنے ساتھ اندر کی ریت بھی ساتھ لایا ہے کہ کھیتوں میں میل ہامیل تک ریت کی کئی کئی فٹ تک نہ جم گئی ہے۔’باپ بچوں کی تلاش میں سرگردان ہیں۔بچے اپنے ما تا پتا کو تلاش کر رہے ہیں۔گرے ہوئے مکانات میں جو بچے بیچ رہے ہیں وہ ایک ایک اینٹ اٹھا کر دیکھ رہے ہیں کہ ان کے ما تا پتا نیچے سے نظر آسکیں اور انہیں پیار سے بلا سکیں۔لیکن بھونچال نے کس کو زندہ رہنے دیا ہے۔جب مکان کھودتے کھودتے لاش نکلتی ہے تو پھر چیخ و پکار کا کیا ٹھکانا ہے پتھر سے پتھر دل بھی روتا ہے“۔۵۵ پھر لکھتا ہے کہ : - وو ’ وہ کھیت جو ۱۵ جنوری کی دو پہر تک دھان کی فصل کے لئے نہایت مفید تھے۔دفعتہ ریگستان میں تبدیل ہو گئے ہیں اور کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ آیا زلزلہ کے باعث جو ریت زمین کے جگر سے نکل کر خوشگوار کھیتوں میں پڑی ہے۔وہ صحرا کی دائگی صورت اختیار کر جائے گی یا اس ریگستان کے نخلستان میں تبدیل ہو جانے کا کوئی امکان باقی ہے؟ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو لاکھوں ایکڑ