مضامین بشیر (جلد 1) — Page 193
۱۹۳ مضامین بشیر اراضی تباہ ہو گئی ہے۔اس کے غریب باشندوں کو جن کا گزارہ کاشت اراضی پر تھا کس طرح روٹی مہیا کی جائے اور زمین کو کس طرح اس قابل بنایا جائے کہ وہ از سر نو اپنی زندگی شروع کرسکیں۔“ وو شہر والوں کے متعلق یہ غلط خیال ہے کہ وہی زیادہ مصیبت زدہ ہیں۔دیہات والے تو بالکل ہی تباہ ہو گئے ہیں۔ایک لاکھ ایکڑ رقبہ سے زیادہ گنے کی فصل کھڑی ہے مگر گنا پہلینے کے تمام کارخانے تباہ ہو گئے ہیں۔۵۶ پھر ملاپ لا ہور کا ایڈیٹر اپنے ایڈیٹوریل مضمون میں لکھتا ہے کہ :- تین دن اور تین رات لگا تار بھونچال زدہ علاقہ میں سفر کرنے کے بعد پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ تبا ہی بہت بڑی ہے اور اخباروں کے ذریعہ اب تک عوام کو جو پتہ لگا ہے وہ اس تباہی کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔میری آنکھوں نے جو کچھ دیکھا ہے، افسوس میر اقلم اور میری زبان اس کے بیان کرنے سے قاصر ہے۔کوئی تباہی سی تباہی ہے اور بربادی سی بربادی ہے؟ دومنٹ کے جھٹکے نے چشم زدن میں دوسو میل لمبے اور ایک سو میل چوڑے علاقہ کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے۔ہزاروں برس کی تہذیبیں اور سینکڑوں برس کی یادگاریں مٹادی گئی ہیں۔جن مکانوں اور محلوں میں ہر وقت چہل پہل رہتی تھی۔وہاں اب گدھ اور چیلیں منڈلا رہی ہیں اور حیوانوں انسانوں کی لاشوں کو نوچ نوچ کر کھا رہی ہیں۔“ ریل کی سڑکیں ٹوٹ چکی ہیں۔موٹر کار کا راستہ پھٹ چکا ہے۔کھیت دلدل بن گئے ہیں۔ایک ہزار گاؤں پانی سے محروم ہو گئے ہیں۔کنوؤں نے آتش فشاں پہاڑ کے دہانہ کا کام دیا ہے۔بھونچال کے وقت ان سے ریت پانی اور کا لا مادہ اچھل اچھل کر نکلتا رہا ہے۔کئی مقامات پر زمین اتنی پھٹ گئی ہے کہ اس میں کئی غاریں بن 66 گئی ہیں اور بہت سے جانوران غاروں میں گر کر جاں بحق ہو گئے ہیں۔زلزلہ کا سب سے زیادہ غصہ مونکھیر پر نکلا ہے۔یہ مہا بھارت کے راجہ کرن کا آباد کیا ہوا پرانا شہر تھا۔چالیس پچاس ہزار کی آبادی ہوگی۔تنگ بازار اور تنگ گلیاں تھیں۔مکانات سہ منزلہ اور چار منزلہ تھے۔دیہات سے لوگ عید کے لئے خوشی کا سامان خریدنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔ہندو بسنت کی تیاریوں میں مشغول تھے کہ یک لخت ۱۵ جنوری کو ایک مہیب شور زمین کے اندر سے سنائی