مضامین بشیر (جلد 1) — Page 86
مضامین بشیر ۸۶ وحواس رکھتے ہوئے ان فرضی باتوں میں پڑ جاؤں تو مجھے دنیا کیا کہے گی اور خدا کے سامنے میرا کیا جواب ہوگا ؟ اگر مجھے دیوانہ پن کی باتوں سے پر ہیز نہ ہوتا تو میں یہ عرض کرتا کہ اگر بالفرض حضرت والدہ صاحبہ وہی جواب دے دیتیں جس کا فرضی خیال بھی ڈاکٹر صاحب کو بے چین کر رہا ہے تو پھر غالبا ڈاکٹر صاحب کے دل و دماغ ایک لاعلاج اضطراب کا شکار ہو جاتے۔اگر سچ پوچھا جائے تو خاموشی اختیار کرنے سے دوسرے نمبر پر اس جواب کے سوا اور کوئی جواب ڈاکٹر صاحب کے اعتراض کا میرے ذہن میں نہیں آتا۔مکرم ڈاکٹر صاحب جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا اور جو جواب خدا نے حضرت والدہ صاحبہ کے دل میں الہام کیا ، اس کا انہوں نے اظہار کر دیا۔اب آپ اور آپ کے رفقاء قیامت تک اپنا سر پیٹیں وہ جواب بدل نہیں سکتا۔پس اب اس بغض و عداوت کی آگ میں جلنے سے کیا حاصل ہے؟ بہتر یہی ہے کہ دل سے غصہ نکال دیں اور عقل و خرد سے صلح کر لیں۔اور آپ کا یہ تحریر فرما نا کہ :- حضرت صاحب نے میاں محمود احمد صاحب کو اپنا جانشین بنانا مناسب نہیں سمجھا ، نہ بنایا بلکہ انجمن کا پریزیڈنٹ بھی نہیں بنایا۔گویا کسی ذمہ داری کے عہدہ کا اہل نہیں سمجھا۔ورنہ اگر وہ اپنا جانشین بنانا چاہتے تو کم سے کم پریذیڈنٹ تو بنادیتے۔آپ نے تو میاں صاحب کو انجمن کے کسی ذمہ دار عہدہ کے لائق بھی نہ سمجھا۔جانشین بنانا تو بہت دور رہا۔“ یہ سراسر آپ کی خوش فہمی ہے۔روایت میں یہ کہاں ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت مرزا صاحب کو اپنا خلیفہ بنانا چاہتے تھے۔مگر بعد میں اپنی رائے بدل لی۔وہاں تو صرف یہ ذکر ہے کہ آپ نے حضرت والدہ صاحبہ سے ایک بات دریافت کی تھی۔اگر میں نے اس روایت سے یہ استدلال کیا ہوتا کہ حضرت مسیح موعود کا یہ ارادہ تھا کہ وہ حضرت میاں صاحب کو اپنا جانشین مقرر کر جائیں تو پھر آپ یہ اعتراض کرتے ہوئے بھی بھلے لگتے لیکن خواہ نخواہ اپنی طرف سے ایک بات فرض کر کے اس پر اعتراض جما دینا دیانت داری سے بعید ہے۔باقی رہا حضرت میاں صاحب کی لیاقت کا سوال سو اس بحث میں میں نہیں پڑنا چاہتا۔خدا کے فضل سے حضرت میاں صاحب کوئی غیر معروف آدمی نہیں ہیں۔ان کی زندگی کے حالات اور ان کی قابلیت دنیا کے سامنے ہے۔اور ہر عقلمند انسان جسے تعصب نے اندھا نہیں کر رکھا اپنے طور پر فیصلہ کر سکتا ہے۔کہ وہ کس دل و دماغ کے مالک ہیں۔ہاں ڈاکٹر صاحب کے مضمون کے مطالعہ سے میں اس نتیجہ پر ضرور پہنچا ہوں کہ جب تک ڈاکٹر صاحب کا دماغ ان تاریک بخارات سے صاف نہ ہو جو بغض، حسد اور کینہ وعداوت کی آگ