مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 85 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 85

۸۵ مضامین بشیر چاہتا ہے۔ڈاکٹر صاحب کو چاہیئے تھا کہ اس بات کو یا د ر کھتے کہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے : - لا يجر منكم شنان قوم على ان لا تعدلوا اعدلوا هوا قرب للتقوى۔یعنی کسی کی عداوت تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم اس کے معاملہ میں عدل وانصاف کو چھوڑ دو۔تمہیں چاہیئے کہ بہر حال عدل وانصاف کو ہاتھ سے نہ دو۔66 کیونکہ یہی تقویٰ کا مقام ہے میں نے یہ الفاظ نیک نیتی اور ہمدردی کے خیال سے عرض کئے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب کم از کم اس معاملہ میں بدظنی سے کام نہیں لیں گے۔دوسری مثال جو ڈاکٹر صاحب نے بیان کی ہے وہ حضرت والدہ صاحبہ کی ایک روایت ہے جس میں انہوں نے بیان کیا ہے کہ ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان سے فرمایا تھا کہ کوئی انگریز مولوی محمد علی صاحب سے دریافت کرتا تھا کہ جس طرح بڑے لوگ جنہوں نے کسی بڑے کام کی بنیا درکھی ہوئی ہو اپنے بعد اپنا کوئی جانشین مقرر کر جاتے ہیں کیا اس طرح مرزا صاحب نے بھی کیا ہے اور اس کے بعد آپ نے حضرت والدہ صاحبہ سے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے کیا میں محمود کو مقرر کر دوں۔جس کے جواب میں حضرت والدہ صاحبہ نے کہا کہ جس طرح آپ مناسب سمجھتے ہیں کریں اس روایت کو لے کر جس بے دردی کے ساتھ ڈاکٹر صاحب ہم پر حملہ آور ہوئے ہیں وہ انہی کا حصہ ہے۔میں نے ہم کا لفظ اس لیئے استعمال کیا ہے کہ اس حملہ کا نشانہ صرف خاکسار ہی نہیں بلکہ ڈاکٹر صاحب نے حضرت والدہ صاحبہ اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کو بھی نہیں چھوڑا۔فرماتے ہیں : - کیا واقعی اگر حضرت بیوی صاحبہ فرما دیتیں تو وہ میاں محمود احمد صاحب کو اپنا جانشین مقرر کر دیتے ؟ یہ بہتر ہوا کہ حضرت بیوی صاحبہ کی زبان سے یہ کلمہ نکلا کہ جیسا مناسب سمجھیں کریں۔ورنہ مفت میں خفت اٹھانی پڑتی ، اور پھر اس فرضی بات کے اوپر جو محض ڈاکٹر صاحب کی خوش فہمی کا نتیجہ ہے ایک طومار اعتراضات کا کھڑا کر دیا ہے۔میں حیران ہوں کہ اس اعتراض کا کیا جواب دوں کہ اگر بیوی صاحبہ یہ جواب دے دیتیں کہ ہاں میاں محمود احمد صاحب کو جانشین بنا دو تو پھر کیا ہوتا۔جو بات وقوع میں ہی نہیں آئی اس کے متعلق میں کیا کہوں اور کیا نہ کہوں؟ ڈاکٹر صاحب کے دماغ کو تو خیر بغض وعداوت کے بخارات نے گھیرا ہوا ہے اس لئے وہ مجبوری کا عذر رکھتے ہیں لیکن میں اگر ہوش۔