مضامین بشیر (جلد 1) — Page 84
مضامین بشیر ۸۴ أصولاً اس کی مؤید ہے۔وہوالمراد ایک اور بات جو میں کہنا چاہتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ میں نے اپنے اس مضمون میں اس عام معروف خیال کی بناء پر بحث کی ہے کہ ہندوؤں کا ستارا منگل اور اسلامی ہیئت دانوں کا مریخ ایک ہی ہیں۔اور اس میں کوئی ذاتی تحقیق میں نے نہیں کی۔مگر میرے نزدیک یہ ممکن ہے کہ یہ معروف عقیدہ درست نہ ہو بلکہ اس کے خلاف بعض قرائن بھی موجود ہیں۔چنانچہ انگریزوں کے لٹریچر میں جہاں تک میں نے دیکھا ہے منگل کا دن مریخ کے زیر اثر نہیں سمجھا جاتا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو یہ لکھا ہے کہ آدم کی پیدائش مشتری کے زیر اثر تھی اور پھر آپ نے اس سے آگے ہزار ہزار سال کا دن رکھ کر زمانہ کی شمار شروع فرمائی ہے اس کی رُو سے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ مبارک منگل کے مقابلہ میں نہیں آتا۔حالانکہ دوسری طرف آپ کی یہ صاف اور واضح تحریر موجود ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت مریخ کے اثر کے ماتحت تھی۔جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ منگل اور مریخ ایک نہیں ہیں بہر حال یہ بات مزید تحقیق چاہتی ہے۔اور میں نے اس امر میں ابھی تک کوئی رائے قائم نہیں کی اور اسی لئے میں نے عام معروف خیال پر جو ڈاکٹر صاحب کے نزدیک بھی مسلم ہے اپنے جواب کی بنارکھ دی ہے۔واللہ اعلم ہیں اگلی مثال کی بحث شروع کرنے سے قبل میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ میرا یہ مضمون کچھ زیادہ طول پکڑ رہا ہے اور گوابھی تک ڈاکٹر صاحب کی پیش کردہ بائیس مثالوں میں سے میں نے صرف ایک مثال کی بحث کو ختم کیا ہے لیکن حجم کے لحاظ سے میرا مضمون ابھی سے ڈاکٹر صاحب کے مضمون کے برابر پہنچ گیا ہے اور گواعتراض کی نسبت جواب عموماً زیادہ لمبا ہوتا ہے لیکن چونکہ مجھے بھی دوسرے کام ہیں اور ناظرین کے لئے بھی طویل مضامین کے مطالعہ کے واسطے وقت نکالنا آسان نہیں۔اس لئے میں انشاء اللہ آئیندہ اپنے جوابات میں حتی الوسع اختصار سے کام لوں گا۔مجھے افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون میں بہت سی لاتعلق باتوں کو داخل کر دیا ہے اور کئی جگہ میرے مفہوم کو بری طرح بگاڑ کر خواہ مخواہ اعتراض کی گنجائش نکالنے کی کوشش کی ہے۔والا اگر وہ صرف معقول علمی تنقید تک اپنے آپ کو محدود رکھتے تو ایک تو بحث میں کوئی بدمزگی نہ پیدا ہوتی اور دوسرے یہ فائدہ ہوتا کہ اعتراضات و جوابات اس قدر طول نہ پکڑتے۔اور لوگ جلد اور آسانی کے ساتھ کسی مفید نتیجہ تک پہنچ جاتے۔مگر میں ایک حد تک ڈاکٹر صاحب کو مجبور سمجھتا ہوں کیونکہ در اصل مخالفت کے ہوتے ہوئے اپنے آپ کو عدل وانصاف کے مقام سے متزلزل نہ ہونے دینا ایک نہایت ہی مشکل کام ہے اور بڑے مجاہدہ کو مطبوعه الفضل ۱۶ اگست ۱۹۲۶ء