مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 83 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 83

۸۳ مضامین بشیر پس ثابت ہوا کہ وہ دن جوان ستاروں کی تاثیرات کے ماتحت آتے ہیں۔جو خدا تعالیٰ کی جمالی صفات کا مظہر ہیں اپنے افاضہ برکات میں دوسرے دوسرے دنوں پر فائق ہیں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی فرماتے ہیں کہ :- اگر چہ جمعہ کا دن (جو بوجہ مشتری ستارے کے زیراثر ہونے کے جو اپنے اندر جمالی تاثیرات رکھتا ہے ) سعدا کبر ہے لیکن اس کے عصر کے وقت کی گھڑی ہر اک اس کی گھڑی سے سعادت اور برکت میں سبقت لے گئی ہے“ خلاصہ کلام یہ کہ جمالی صفات کو جلالی صفات پر ایک گونہ وسعت اور فوقیت حاصل ہے۔اور اسی وجہ سے منگل جو خدا کی جلالی صفات کا اثر رکھتا ہے دوسرے دنوں سے اپنے افاضہ برکات میں مقابلتا کم ہے۔لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے اپنی جلالی اور جمالی ہر دو قسم کی صفات کا مظہر اتم بنایا تھا اس لئے اس کے جلالی بعث کو مریخ کے اثر کے ماتحت رکھا اور آپ کے جمالی بعث کو مشتری کی تاثیر کے ماتحت ظاہر کیا اور یہ وہ مقام عالی ہے جس کی بلندیوں تک کوئی انسان نہیں پہنچا۔اللهم صل عليه وعلى عبدك المسيح الموعود بارک وسلم۔منگل والی روایت کی بحث کو ختم کرنے سے پہلے میں یہ بھی عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ سائنس کی رو سے بھی ستاروں کی تاثیرات کے متعلق کوئی اعتراض وارد نہیں ہو سکتا۔کیونکہ کسی بات کا سائنس کی تحقیق میں ابھی تک نہ آیا ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ بات غلط ہے۔دراصل دنیا کے علوم میں سے بہت ہی تھوڑا حصہ ہے جو ابھی تک سائنس کی تحقیق میں آیا ہے۔اور باقی سب میدان ہنوز غیر دریافت شدہ حالت میں پڑا ہے۔اندریں حالات کوئی بات سائنس کے خلاف سمجھی جاسکتی ہے جب سائنس کی کوئی ثابت شدہ حقیقت اس کے مخالف پڑتی ہو اور اگر وہ سائنس کی کسی ثابت شدہ حقیقت کے مخالف نہیں ہے۔تو صرف اس بناء پر کہ ابھی تک وہ سائنس کے احاطہ تحقیق میں نہیں آئی ، قابل اعتراض نہیں سمجھی جاسکتی۔کون نہیں جانتا کہ سائنس کی تحقیقاتوں میں آئے دن اضافہ ہوتا رہتا ہے۔پس اگر ایک چیز آج اس کے احاطہ تحقیق میں نہیں آئی۔تو کل آجائے گی۔اور اگر بالفرض وہ کبھی بھی اس کے احاطہ تحقیق میں نہ آئے۔پھر بھی جب تک کہ اس پر سائنس دان کو اس کے خلاف آواز اٹھانے کا حق نہیں ہے۔لیکن میں کہتا ہوں گو سائنس کی رو سے ابھی تک ستاروں کی اس قسم کی تاثیرات ثابت نہیں ہوئیں۔لیکن اُصولاً سائنس دان بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ دنیا کی ہر چیز ہر دوسری چیز پر کچھ نہ کچھ اثر ڈال رہی ہے۔اور اس اصول کے ماتحت یہ ماننا پڑتا ہے کہ کسی نہ کسی رنگ میں انسانی زندگی ستاروں سے متاثر ہوتی ہے۔پس ثابت ہوا کہ نہ صرف یہ کہ سائنس اس عقیدہ کے مخالف نہیں بلکہ