مضامین بشیر (جلد 1) — Page 2
مضامین بشیر ہوا ؟ ذلت۔قردة خاسئین ہو گئے دوسرے کے نچائے ناچتے ہیں۔پھر اس پر غضب یہ ہوا کہ عیسائی تہذیب نے ملک میں قدم رکھا اور مسلمان جو پہلے ہی اُدھار کھائے بیٹھے تھے اس پر لٹو ہو گئے۔پتلون کی آمد پر پاجامہ صاحب رفو چکر ہوئے اور جبہ کی مسند پر فراک کوٹ کو بٹھایا گیا اور کیا چاہیئے تھا من مانی مرادیں مل گئیں۔شراب و کباب میں غرق ہوئے۔بابو صاحب کا لقب پایا اور مولویت کو خیر باد کہہ دی۔اللہ اللہ ! یہ وہ قوم ہے جو اسلام کا دعویٰ رکھتی ہے۔خدا تو ظالم نہیں۔ہاں انہوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا۔پھر کہتے ہیں کہ ہم پر مصائب کیوں آتے ہیں۔کوئی کہے تم انعاموں کے کام کرتے ہو؟ یہ خدا کی رضا حاصل کرنے کے طریقے ہیں؟ دوسروں پر کفر کے فتوے اور اپنے گھر کا یہ حال! آخر شرم بھی کوئی چیز ہے ، جائے غور ہے یہ آسمان پر تھے اور زمین پر گرے تختوں پر ان کا ٹھکانا تھا اور اب خاک بھی ان کو جگہ دیتی شرماتی ہے۔آخر یہ سب کچھ کس بات کا نتیجہ ہے؟ یہ عتاب کیسا ؟ اس ناراضگی کے کیا معنے ؟ خدا بدل گیا یا یہ ہی وہ نہ رہے ؟ کبھی اس آیت پر بھی غور کیا ہے؟ إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ کہنے والے نے خوب کہا ہے :- غیروں سے اب لڑائی کے معنے ہی کیا ہوئے خود ہی غیر بن کے محل سزا ہوئے اسلامی جوش مٹ گیا اور دنیا کی محبت دل میں گھر کر گئی۔عیش وعشرت کے خمار میں پڑ گئے اور اپنے مولیٰ کو بھلا دیا۔جوں جوں زمانہ دور ہوتا گیا اسلامی تعلیم دلوں سے محو ہوتی گئی تو کیا اب کئی صدیوں کا خماران چکنی چپڑی باتوں سے دور ہو جائے گا؟ یہ نیند نہیں بدمستی ہے اب کوئی مضبوط ہاتھ ہی ہوش میں لائے گا۔نرم باتوں کو کون سنتا ہے۔ہم نے تو دیکھا ہے کہ شرابی اپنے نشہ میں مست عجیب شور مچاتے ہیں اور بیہودہ بکو اس سے ناک میں دم کر دیتے ہیں مگر جب بالوں سے پکڑ کر دو چار رسید کر دی جائیں تو فوراً ہوش آ جاتا ہے۔جَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ اَحْسَنُ سے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ حق کو چھوڑ دیا جاوے اور دل خوش کن باتیں کر کے راضی کر لیا جاوے۔ہاں بات کرنے کا طریق احسن ہو اور اس سے کسی کو انکار نہیں۔مثلاً ایک ہندو ہمارے پاس آوے اور ہم سے سوال کرے کہ آپ ہم کو کیا سمجھتے ہیں تو ہم اگر حق کہتے ہوئے نہ ڈریں تو دو طرح سے جواب دے سکتے ہیں ہم کہہ سکتے ہیں کہ تو کمبخت کا فربے ایمان جہنم کا ایندھن ہے اور یہ جواب حق ہوگا۔یا ہم کہہ سکتے ہیں کہ دیکھو تم نے اللہ کے ایک مرسل کا انکار کیا اور کسی رسول کے انکار کو کفر کہتے ہیں۔تم میں حقیقی ایمان نہیں اور اللہ تعالیٰ اسی وجہ سے تم پر خوش نہیں اور