مضامین بشیر (جلد 1) — Page 1
١٩١٣ء مضامین بشیر صلح یا جنگ۔احمدیوں اور غیر احمدیوں کے باہم تعلقات پر بحث کرنا کوئی آسان بات نہیں۔اور ہر ایک کا کام نہیں کہ اس پر قلم اٹھاوے کیونکہ یہ مضمون قومی نظام کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور قومی نظام کی پوری ذمہ داری کو سوائے قوم کے لیڈر کے اور کوئی نہیں سمجھ سکتا۔لہذا ایسا مضمون جس پر حضرت اقدس کی کوئی تحریر شاہد نہ ہو ، کبھی بھی قوم کے لئے دستور العمل نہیں ہوسکتا۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا ہے کہ جو کچھ لکھوں ، اس پر حضرت صاحب کی شہادت ہو ورنہ میں کیا اور میری بساط کیا۔ایسا ہی میرا خیال ہے کہ اگر ہر ایک احمدی کوئی مضمون لکھتے ہوئے حضرت صاحب کی کتب کو سامنے رکھ لے تو قوم بہت سی مشکلات سے بچ جاوے۔اس قدرتمہید کے بعد میں اصل مضمون کی طرف آتا ہوں۔قرآن شریف اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک فطرت پر پیدا کیا ہے۔جیسے فرما یا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا له اسلام کا کام اس فطرت کا جگانا ہے اور قرآن اسی غرض سے دنیا میں نازل ہوا مگر وقت یا یوں کہئے کہ زمانہ اپنے اندر ایک عجیب اثر رکھتا ہے۔کتنی ہی سخت سے سخت مصیبت کیوں نہ پڑے کیسا ہی بڑے سے بڑا غم کیوں نہ ہوا ایک عرصہ کے بعد اس کی تیزی ضرور کم ہو جائے گی۔مجھ کو یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود کی وفات کا وقت احمدی قوم پر بڑے درد کا وقت تھا اور غم کی وجہ سے وہ دیوانی نظر آتی تھی لیکن آج پانچ یا چھ سال کے بعد وہ غم نہیں ، وہ درد نہیں ، وہ تکلیف نہیں ، وقت نے اپنا اثر کیا اور آہستہ آہستہ غم کم ہوتا گیا۔اور اب جتنا ہم کو زمانہ اس سانحہ دور ڈالتا چلا جائے گا ، اتنا ہی ہمارے لئے اس کی تکلیف کم ہوتی جائے گی۔اسی طرح جو اسلام کی محبت اور دین الہی کی غیرت اور اپنی عقلی کی فکر مسلمانوں کو نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھی وہ آج نہیں۔وہ فاتح تھے اور یہ مفتوح۔وہ بادشاہ تھے اور یہ رعایا۔وہ آزاد تھے اور یہ غلام۔وہ اسلام کا فخر اور یہ اسلام کی جائے عار۔غرض وہ منعم علیہم اور یہ مغضوب ، دنیا کی محبت آگئی اور دین کو کھو بیٹھے۔زمین نے اپنے چھپے ہوئے خزانے ان کے دروازوں پر لاڈھیر کئے۔آسمان نے ان کے لئے رحمت کے بادل برسائے مگر انہوں نے شکر کرنے کی بجائے اپنی عیش میں خدا کو بھلا دیا۔نتیجہ کیا