مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 82 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 82

مضامین بشیر ۸۲ قوت قدسیہ اور افاضہ روحانی کا ظہور تھا کیونکہ آپ جامع کمالات جمالی وجلالی تھے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : - " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں۔(۱) ایک بعث محمدی جو جلالی رنگ میں ہے جو ستارہ مریخ کی تاثیر کے نیچے ہے (۲) دوسرا بعث احمدی جو جمالی رنگ میں ہے اور ستارہ مشتری کی تاثیر کے نیچے ہے۔اور چونکہ انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو باعتبار اپنی ذات اور اپنے تمام سلسلۂ خلفاء کے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ایک ظاہر اور کھلی کھلی مماثلت ہے۔اس لئے خدا نے بلا واسطہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ کے رنگ پر مبعوث فرمایا لیکن چونکہ آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عیسی سے ایک مخفی اور باریک مماثلت تھی اس لئے خدا تعالیٰ نے ایک بروز (یعنی مسیح موعود ) کے آئینہ میں اس پوشیدہ مماثلت کا کامل طور پر رنگ دکھلا دیا۔‘۲۹ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم سب قدموں کے اوپر ہے کیونکہ آپ خدا کی جلالی اور جمالی صفات کے ظل کامل ہیں۔اور باقی کوئی اور فرد بشر اولین اور آخرین میں سے اس مرتبہ کو نہیں پہنچا۔میرا یہ لکھنا کہ منگل کا دن دوسرے دنوں سے بلحاظ اپنی برکات کے مقابلہ کم ہے۔اس کا بھی یہی منشاء تھا کہ چونکہ وہ خدا کی قہری اور جلالی شان کا ظل ہے اور اس کے سوا باقی دن یا تو جمالی صفات کاظل ہیں یا اگر جلالی بھی ہیں تو منگل سے کم ہیں۔اس لئے وہ اس جہت سے منگل کی نسبت اپنے افاضہ برکات میں فائق ہیں کیونکہ خدا کی جمالی صفات اس کی جلالی صفات پر غالب ہیں۔جیسا کہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے :- " عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ۔٣٠ یعنی میرا عذاب تو میرے بنائے ہوئے قانون کے ماتحت صرف اسی کو پہنچتا ہے۔جو اپنے اعمال سے اپنے آپ کو اس کا سزاوار بناتا ہے۔لیکن میری رحمت کی صفات سب پر وسیع ہیں۔پھر حدیث میں آتا ہے کہ " سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضَبِى ٣ یعنی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔اور ظاہر ہے کہ جن صفات کا غلبہ ہے وہی اپنے افاضہ برکات میں بھی فائق سمجھی جائیں گی۔