مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 81 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 81

ΔΙ مضامین بشیر دراصل ڈاکٹر صاحب نے غور نہیں فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت مسیح ابن مریم کی طرح جمالی رنگ میں واقع ہوئی ہے۔اور اسی لئے آپ کی فطرت میں صلح اور آشتی اور امن جوئی اور محبت و نرمی اور عفو و درگزر کی طرف زیادہ میلان ہے اور خدا کی جلالی صفات سے مقابلہ بہت کم حصہ آپ نے لیا ہے۔چنانچہ آپ نے اپنی کتب میں متعد دجگہ اپنی بعثت کی ان خصوصیات کو بیان فرمایا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ چونکہ میری بعثت جمالی رنگ میں مقدر تھی اس لئے خدا تعالیٰ نے مجھے مشتری ستارہ کی تاثیرات کے ماتحت مبعوث فرمایا ہے تا کہ میں مشتری کی جمالی صفات سے حصہ پاؤں۔چنا نچہ تحریر فرماتے ہیں :- ہزار ششم کا تعلق ستارہ مشتری کے ساتھ ہے۔جو کوکب ششم من جملہ خُنّس کُنّس ہے اور اس ستارہ کی یہ تاثیر ہے کہ مامورین کو خونریزی سے منع کرتا اور عقل و دانش اور مواد استدلال کو بڑھاتا ہے۔۲۷ پھر فرماتے ہیں :- اس وقت کے مبعوث پر پر تو کہ ستارہ مشتری ہے نہ پر تو ہ مریخ ۲۸ الغرض چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت مشتری کی تاثیر کے ماتحت جمالی رنگ میں واقع ہوئی ہے۔اس لئے طبعا اور فطرتا آپ میں جمالی صفات کی طرف زیادہ میلان تھا اور جلالی صفات جو قہر اور عذاب اور شدائد اور سختیوں وغیرہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں آپ میں بہت کم پائی جاتی تھیں۔جس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ آپ ان چیزوں کو زیادہ محبت کی نظر سے دیکھتے تھے۔جن کی تاثیرات جمالی رنگ میں ظاہر ہوتی ہیں۔اور جلالی صفات مثل قہر و عذاب اور قتل و خونریزی کے لئے کوئی طبعی محبت اپنے اندر نہ پاتے تھے اور یہی اس روایت کا منشاء ہے۔اور اس کے مقابلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت چونکہ مریخ ستارہ کے ماتحت تھی اس لئے آپ کے اندر خدا کی جلالی صفات کا ظہور ہوا۔چنانچہ یہ اس کا نتیجہ تھا کہ حالات ایسے پیدا ہو گئے کہ آپ کو اپنے دشمنوں کے خلاف تلوار سے کام لینا پڑا اور ہر شخص جو قتل و خونریزی اور فساد فی سبیل اللہ کی نیت سے آپ کے خلاف اٹھا۔خدا نے اسے خود آپ کے ہاتھ سے ہی اپنی جلالی تجلیات کا نشانہ بنایا۔مگر اس موقع پر یاد رکھنا چاہیئے کہ ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں ایک وہ جو ستارہ مریخ کی تاثیر کے ماتحت جلالی صفات کے ساتھ وقوع میں آیا اور دوسرا وہ جو ستارہ مشتری کی تاثیر کے ماتحت آپ کے بروز کامل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وجود کے ذریعہ جمالی صفات کے ماتحت واقع ہوا۔اور ان دونوں میں آپ ہی کی