مضامین بشیر (جلد 1) — Page 80
مضامین بشیر ۸۰ منگل ہر گز کوئی منحوس دن نہیں ہے۔بلکہ اسی طرح خدا کی مقدس مخلوق ہے جیسا کہ دوسرے دن ہیں۔صرف بات یہ ہے کہ اس نے خدا کی قہری اور جلالی صفات سے حصہ پایا ہے۔جیسا کہ بعض دوسرے دن خدا کی جمالی اور رحیمی صفات کے ظل ہیں۔حقیقت یہی ہے چاہو تو قبول کرو۔و من اعتدى فقد ظلم اس روایت کی بحث کو ختم کرنے سے قبل ایک اور شبہ کا ازالہ ضروری ہے جو ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون میں پیش کیا ہے اور جو بعض دوسرے لوگوں کے دل میں بھی کھٹک سکتا ہے۔وہ شبہ ڈاکٹر صاحب کے الفاظ میں یہ ہے :- پھر حضرت مسیح موعود نے جو تحفہ گولڑویہ میں اس دنیا کے زمانہ کو ایک ہفتہ قرار دے کر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو منگل کا دن قرار دیا ہے اور آپ کے جلالی رنگ کو مریخ یعنی منگل کے رنگ میں دکھایا ہے تو یہ کیا سمجھ کر ایسا تحریر کیا ہے۔کیا حضرت مسیح موعود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل دنیا کے لئے باعث رحمت سمجھتے تھے یا نعوذ باللہ باعث نحوست۔کیا وہ ایک ایسے ستارے کو جسے منحوس سمجھتے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر سکتے تھے۔حضرت صاحب کی یہ تحریر فیصلہ کن ہے۔“ اس کے متعلق میں یہ عرض کرتا ہوں کہ حضرت صاحب کی ہر اک تحریر خدا کے فضل سے فیصلہ کن ہے لیکن سوال صرف یہ ہے کہ اس تحریر کے معنی کیا ہیں۔بدقسمتی سے ڈاکٹر صاحب کے دل و دماغ میں وہی نحوست کے خیالات بھرے ہوئے ہیں اس لئے وہ میری ہر بات کو اسی عینک سے دیکھتے ہیں۔انہوں نے یہ فرض کر لیا ہے کہ میرے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ السلام منگل کے دن کو منحوس سمجھتے تھے اور پھر اس فرضی بات پر اعتراضات کا ایک طومار کھڑا کر دیا ہے حالانکہ جیسا کہ میں بار بار عرض کر چکا ہوں۔میں نے اپنی کسی تقریر وتحریر میں منحوس یا نحوست یا اس مفہوم کا کوئی اور لفظ استعمال نہیں کیا۔اور نہ میرے ذہن میں بھی یہ مفہوم آیا ہے میں نے صرف یہ لکھا تھا کہ ” حضرت مسیح موعود دنوں میں سے منگل کے دن کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔اور پھر یہ کہ آپ کا روز وفات جو کہ منگل کا دن تھا وہ دنیا کے واسطے ایک بڑی مصیبت کا دن تھا۔جس کا صاف یہ مطلب تھا کہ منگل کا دن اپنے اندر شدائد اور سختی کی تاثیر رکھتا ہے اور اسی لئے حضرت مسیح موعود نے بمقابلہ دوسرے دنوں کے اسے اچھا نہیں سمجھا۔نہ کہ نعوذ باللہ وہ کوئی منحوس دن ہے۔پس جبکہ بنائے اعتراض ہی غلط اور باطل ہے تو اعتراض خود غلط اور باطل ہوا۔و ہوالمراد "