مضامین بشیر (جلد 1) — Page 79
۷۹ مضامین بشیر ہیں۔اور ان مؤخر الذکر اشیاء کا بہت غلبہ ہو جائے تو ظاہر ہے کہ باوجود اس کے کہ ڈاکٹر اپنے بیما رکو کو نین کھلاتا رہے اس کا خون ملیریا کے جراثیم سے پاک نہیں ہو سکے گا جب تک کہ ان مخالف تا ثیرات کو توڑنے کی کوئی صورت نہ ہو۔خلاصہ یہ ہے کہ انسانی زندگی پر بے شمار چیز میں اثر ڈالتی ہیں اور ان میں سے ایک ستارے بھی ہیں۔اور چونکہ ہر نظمند شخص کی یہ کوشش ہونی چاہیئے کہ حتی الوسع تمام نیک تاثیرات کے اثر سے مستفید ہو اور تکلیف دہ اثرات سے محفوظ رہنے کی کوشش کرے۔اس لیئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو خدا کے مقرر کردہ قانون کے ماتحت کسی چھوٹے سے چھوٹے خدائی انعام کو بھی ہاتھ سے جانے نہ دینا چاہتے تھے مبارکہ بیگم کی ولادت کے وقت خدا سے یہ دعا مانگی کہ وہ کسی ایسی تاثیرات کے ماتحت پیدا نہ ہو جو شدائد اور سختی وغیرہ کا اثر رکھتی ہوں۔اور اگر اس کی ولادت اسی دن مقدر ہو تو پھر خدا کی طرف سے کوئی دوسرے ایسے سامان پیدا ہو جائیں جن کی تاثیر اس دن کی تاثیر پر غالب آ جائے۔اور یہ کوئی انوکھی دعا نہیں۔بلکہ اسی اصل کے ماتحت ہے جس کے ماتحت خدا نے ہمارے جدا مجد آدم کی پیدائش کا نتظام کیا تھا۔الغرض ستارے اپنے اندر مختلف قسم کی تاثیرات رکھتے ہیں جو انسانی زندگی پر اثر ڈالتی رہتی ہیں۔اور چونکہ دن بھی الگ الگ ستاروں کے اثر کے ماتحت ہیں اس لئے دنوں کا بھی اعلیٰ قدر مراتب انسانی حالات پر اثر پڑتا ہے۔پس ہر مومن کا یہ فرض ہے کہ وہ جہاں خدا کی دوسری با برکت تقدیروں سے فائدہ اٹھاتا ہے وہاں ان تقادیر سے بھی حتی الوسع متمتع ہو جو دنوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں مگر یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ ہر اک بات کی ایک حد ہوتی ہے اور حد سے تجاوز کرنا تو ہم پرستی پیدا کرتا ہے۔پس اگر کوئی شخص اپنے کسی اہم اور فوری کام کو صرف اس خیال سے ملتوی کر دیتا ہے کہ آج منگل ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی سختی پیش آئے یا کسی ضروری اور فوری سفر یا کام کو صرف اس خیال سے پیچھے ڈال دیتا ہے کہ مثلاً آج جمعرات نہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ کام برکات سے محروم ہو جائے تو وہ غلطی کرتا ہے بلکہ ایک گونہ مخفی شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔کیونکہ ایسی صورت میں یہ سمجھا جائے گا کہ اس شخص نے باقی لاکھوں کروڑوں تا خیرات کو جو اسی طرح خدا کی پیدا کردہ ہیں جس طرح کہ ستارے ، نظر انداز کر کے صرف اس دنوں والی تاثیر پر اپنا تکیہ کر لیا ہے۔بلکہ ان اسباب کے پیدا کرنے والے خدائے ذوالجلال کو بھی فراموش کر کے صرف ستاروں کو ہی اپنی قضا و قدر کا مالک سمجھ رکھا ہے جیسا کہ ہندوؤں کا حال ہوا۔جو کسی صورت میں اپنے کسی کام کی ابتداء منگل کو نہیں کرتے گو یا منگل کے ہاتھ میں کل قضاء قدر کا معاملہ سمجھتے ہیں۔یہ نادانی اور جہالت کی باتیں ہیں جن سے مومن کو پر ہیز لازم ہے۔