مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 73 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 73

۷۳ مضامین بشیر یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو امتیں ہم سے پہلے گذری ہیں وہ جمعہ کے دن کو اپنا مبارک دن قرار دینے سے بھٹکی رہیں۔چنانچہ یہود نے ہفتہ کو اپنا مبارک دن بنالیا اور عیسائیوں نے اتوار کو لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ہم کو دنیا میں قائم کیا تو اس نے ہم کو جمعہ کے دن کی طرف ہدایت کی اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ جمعہ کے دن کو دوسرے دنوں پر ایک امتیاز حاصل ہے جس کی وجہ سے وہی اس بات کی اہلیت رکھتا ہے کہ اسے ہفتہ کا مبارک دن قرار دے کر اس دن اپنی مخصوص اور اجتماعی عبادات کو سرانجام دیا جائے اور یہ جو بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ جمعہ کے دن جو ایک مخصوص اجتماعی عبادت رکھی گئی ہے تو اس کی وجہ سے جمعہ کو امتیاز حاصل ہو گیا ہے ، یہ غلط ہے کیونکہ جیسا کہ حدیث مذکورہ بالا سے پتہ لگتا ہے حق یہ ہے کہ جمعہ کا یہ امتیاز اس عبادت کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ یہ عبادت اس لئے ہے کہ جمعہ کو ایک امتیاز حاصل ہے۔چنانچہ موطا کی ایک روایت ہے کہ خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ۔ال۔یعنی سب دنوں میں سے جمعہ کا دن مبارک ترین دن ہے۔“ پس ثابت ہوا کہ دن اپنی برکات اور تاثیرات میں ایک دوسرے سے متفاوت ہیں۔اسی طرح ایک روایت آتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفروں کے لئے عموماً جمعرات کے دن کو پسند فرماتے تھے جس سے یہ ظاہر ہے کہ جمعرات اپنی برکات کے لحاظ سے باقی دنوں پر فوقیت رکھتا ہے۔ور نہ کوئی وجہ نہیں کہ آپ اسے دوسروں پر ترجیح دیتے۔الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ دنوں میں برکات کا فرق تسلیم فرماتے تھے اور اس فرق سے مناسب حد تک فائدہ اٹھانے کا خیال بھی آپ کو رہتا تھا۔اب رہی قرآن کی شہادت سو وہ بھی ملاحظہ ہو۔قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے :- اَوَلَمْ يَرَوُا إِلى مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ شَيْءٍ يَتَفَيَّؤُا ظِلَلُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِل سُجَّدَ اللهِ۔۲۲ یعنی کیا لوگ نہیں دیکھتے کہ دنیا کی ہر چیز کا سایہ یعنی اثر خدا کے حکم کے ماتحت دائیں بائیں یعنی ہر طرف پھرتا ہے۔“ اس اصل کے ماتحت ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ ستارے بھی اپنے اندر تا ثیرات رکھتے ہیں اور نیز یہ کہ یہ تا شیر دنیا کی ہر چیز پر اثر پیدا کر رہی ہے۔پس ثابت ہوا کہ ستاروں کا اثر زمانہ اور اہل زمانہ اور