مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 666 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 666

مضامین بشیر ۶۶۶ اس آیت کی طرف خیال جانے پر مجھے یہ نکتہ حاصل ہوا کہ گوامۃ کے لفظ کے اصل معنی ایسی جماعت یا ایسی قوم کے ہیں جو کسی جہت سے ( خواہ یہ جہت خیالات سے تعلق رکھتی ہو یا تمدن سے یا زمانہ سے ) با ہم اشتراک رکھتے ہوں مگر جب ایک جماعت کا کوئی حصہ بلکہ کوئی فرد واحد بھی اپنے اندر بالقوة طور پر جماعت والے اوصاف پیدا کرے۔اور ایک نیوکلیس یعنی مرکزی نقطہ بن کر دوسروں کو اپنی طرف کھینچنے اور جذب کرنے لگ جائے تو خدا کی نظر میں یہ حصہ جماعت یا یہ فرد ہی ,, 66 جماعت کا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔چنانچہ جب خدا نے حضرت ابراہیم کو ایک امة “ قرار دیا تو اس سے یہی مرا تھی کہ : اول : ابراہیم ایسے ارفع مقام کو پہنچ چکے ہیں کہ وہ گویا خدا کی نظر میں اب ایک جماعت کے قائم مقام بن گئے ہیں اور محض فرد کی حیثیت میں نہیں رہے۔دوم یہ کہ ابرا ہیم کو وہ زبردست مقناطیسی شخصیت حاصل ہے کہ اب وہ اکیلے نہیں رہ سکتے۔بلکہ جس حال میں بھی ہوں دوسروں کو اپنی طرف کھینچ کر ایک امۃ بن جائیں گے۔سوم : یہ کہ ابراہیم کا وجود ایسا قیمتی وجود بن گیا ہے کہ اب خدا اسے کبھی بھی ابتر نہیں رہنے دے گا۔بلکہ وہ آئندہ امتوں کے لئے ایک بیج بن جائیں گے۔یہ وہی مفہوم ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق زیادہ شاندار صورت میں خاتم النبیین کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔اور خدا تعالیٰ نے جو مبلغین کی جماعت کو امۃ کے لفظ سے یا د فر مایا ہے۔اس میں بھی یہی اشارہ ہے کہ یہ حصہ گو بڑی جماعت کا ایک قلیل حصہ ہے۔مگر اسے چھوٹا نہ سمجھو بلکہ دراصل یہ حصہ ایک امة کے حکم میں ہے، جس کے ساتھ تمہاری ساری ترقیوں کے تارا لجھے ہوئے ہیں۔اور اسی حصہ سے دوسروں کو نمو نہ حاصل کرنا چاہیئے۔دراصل امۃ کا لفظ اُم کے روٹ سے نکلا ہے۔جس کے معنی کسی دوسری چیز کی طرف قصد کرنے کے ہیں۔چنانچہ ماں کو اُم اسی لئے کہتے ہیں کہ بچہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔اور امسام کو بھی اسی لئے امسام کہتے ہیں کہ وہ گویا اپنے پیروؤں کا مرکزی نقطہ ہوتا ہے۔جس کی طرف سب لوگ دیکھتے ہیں۔اور اس سے نمونہ حاصل کرتے ہیں اور سامنے والے حصہ کو امام کہتے ہیں کیونکہ انسان اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔اس جہت سے یہ سمجھنا چاہیئے کہ سب مسلمان امۃ ہیں۔کیونکہ وہ ایک مشترکہ نظام میں منسلک ہو کر دوسری قوموں کے لئے ایک نمونہ بنتے ہیں۔اور پھر مسلمانوں کا وہ حصہ جو دین کی خدمت کے لئے وقف رہتا ہے وہ بھی ایک اہمۃ ہے۔کیونکہ وہ باقی ساری جماعت کے لئے اسوہ ہوتا ہے۔اور پھر جماعت کے خاص افراد بھی امة ہونے چاہئیں۔کیونکہ وہ جماعت کے سہارے کا باعث اور اس کے لئے نمونہ ہوتے ہیں۔اور