مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 665 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 665

مضامین بشیر قادیان سے ایک ”امة ، مبلغین کی روانگی کل کا دن ہمارے سلسلہ کی تاریخ کے لحاظ سے ایک غیر معمولی دن تھا کیونکہ خدا کے فضل سے کل پونے تین بجے کی گاڑی سے نو بیرون ہند جانے والے مبلغین قادیان سے بیک وقت اکٹھے روانہ ہوئے۔اتنی بڑی تعداد میں کبھی کوئی تبلیغی پارٹی قادیان سے اکٹھی روا نہ نہیں ہوئی۔فالحمد لله علی ذالک۔مجھے کل ریلوے سٹیشن کی طرف جاتے ہوئے دل میں بار بار خیال آتا تھا کہ خدا کے فضل سے آج اتنے مبلغین کی اکٹھی روانگی ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔اور ساتھ ہی قرآن شریف کی اس آیت کی طرف خیال گیا کہ : - " وَلْتَكُنْ مِنكُمُ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۔۳۷ یعنی اے مسلمانو! تم میں سے ایک امت ایسی ہونی چاہیئے جو ( دوسروں کے لئے نمونہ بنتے ہوئے ) لوگوں کو صداقت کی طرف بلائے اور نیکی کا حکم دے اور بدی سے رو کے اور یہی لوگ با مراد ہونے والے ہیں اس آیت کی طرف خیال جاتے ہی مجھے یہ بھی خیال آیا کہ قرآن شریف نے جماعت کے اندر کی ایک پارٹی کو امۃ“ کے لفظ سے کیوں یاد کیا ہے۔کیونکہ بظاہر امۃ کے معنی قوم اور جماعت کے ہیں۔تو جب ساری قوم ہی امۃ ہے تو اس کے ایک حصہ کے متعلق اس لفظ کے استعمال کرنے میں ضرور کوئی خاص حکمت ہونی چاہیئے۔اس پر میرا خیال قرآن شریف کی اس دوسری آیت کی طرف گیا۔جہاں اکیلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو امۃ“ کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : - إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ اُمَّةً قَانِنَا لِلهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ٣٨ یعنی ابراہیم اپنی ذات میں ایک امت تھا کیونکہ وہ خدا کا نہائت درجہ فرمانبردار اور اسی کی طرف ہر وقت جھکا رہنے والا تھا اور شرک کی ہر نوع سے مجتنب رہتا تھا۔