مضامین بشیر (جلد 1) — Page 60
مضامین بشیر اچھا نہیں سمجھتے تھے۔مگر یہ انہیں کس طرح پتہ لگا کہ حضرت صاحب کا ایسا خیال تھا۔کیا حضرت صاحب نے کبھی فرمایا تھا۔کیا یہ ممکن نہیں کہ حضرت والدہ صاحبہ نے کسی امر میں غلطی سے اپنے خیالات پر حضرت صاحب کے خیالات کو قیاس کر لیا ہو۔“ اس اعتراض کا خلاصہ یہ ہے کہ چونکہ اس روایت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ بیان نہیں کئے گئے ، بلکہ راوی نے خود اپنے الفاظ میں ایک خیال آپ کی طرف منسوب کر دیا ہے۔اس لئے یہ روایت قابل قبول نہیں۔مگر افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اس معاملہ میں کما حقہ غور نہیں فرمایا۔اور نہ ہی حدیث نبوی کا توجہ کے ساتھ مطالعہ کیا ہے۔کتب احادیث میں بہت سی ایسی حدیثیں ملتی ہیں۔جن میں راوی خوداپنے الفاظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک خیال بیان کر دیتا ہے ، اور آپ کے الفاظ بیان نہیں کرتا اور ائمہ حدیث اسے رد نہیں کرتے۔میرا یہ مضمون آگے ہی کافی لمبا ہو گیا ہے۔اور میں اسے زیادہ طول نہیں دینا چاہتا اور نہ میں ایسی متعد د مثالیں ڈاکٹر صاحب کے سامنے پیش کرتا کہ راویوں نے بغیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ بیان کرنے کے ایک خیال آپ کی طرف منسوب کر دیا ہے اور محد ثین نے اسے صحیح مانا ہے۔دراصل حدیث میں کئی جگہ ایسے الفاظ آتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فلاں بات کو پسند فرماتے تھے۔اور فلاں کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔وغیرہ ذالک۔اور میں امید کرتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب جو غالباً ہمارے خلاف مضمون نویسی سے کچھ تھوڑا سا وقت بچا کر احادیث کے مطالعہ میں بھی صرف کرتے ہوں گے۔اس بات کا انکار نہیں کریں گے۔دراصل ہر زبان میں اظہار خیال کے طریقوں میں سے ایک طریق یہ بھی ہے کہ بعض اوقات بجائے اس کے کہ دوسرے شخص کے الفاظ بیان کئے جائیں۔صرف اپنے الفاظ میں اس کے خیال کا اظہار کر دیا جاتا ہے اور یہ طریق ایسا شائع و متعارف ہے کہ کوئی فہمیدہ شخص اس کا انکار نہیں کر سکتا۔مگر نہ معلوم میرے خلاف ڈاکٹر صاحب کو کیا غصہ ہے کہ خواہ نخواہ اعتراض کی ہی سوجھتی ہے۔اگر ڈاکٹر صاحب حسن ظنی فرماتے تو یہ خیال کر سکتے تھے کہ چونکہ حضرت والدہ صاحبہ ایک بہت لمبا عرصہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ رہی ہیں۔اس لئے ان کا یہ بیان کرنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام منگل کے دن کو اچھا نہیں سمجھتے تھے، اپنی طرف سے نہیں ہو سکتا۔اور نہ عام حالات میں کسی غلط فہمی پر مبنی سمجھا جا سکتا ہے۔اور یہ کہ انہوں نے جو حضرت صاحب کے الفاظ بیان نہیں کئے تو یہ اس لئے نہیں کہ یہ بات مشکوک ہے بلکہ اس لئے کہ یہ روایت بیان کرتے ہوئے انہوں نے بلا ارادہ روایت بالمعنی کا