مضامین بشیر (جلد 1) — Page 655
مضامین بشیر کئے۔اور اسے بلندی کے راستے نہیں دکھائے ؟ مگر (افسوس ) کہ پھر بھی وہ پورے زور اور سرعت کے ساتھ اس بلند گھاٹی کی طرف قدم نہیں بڑھا تا ( جو خود اسی کی ترقی کے لئے مقرر کی گئی ہے ) اور کیا تم جانتے ہو کہ یہ بلند گھائی کیا ہے؟ سنو کہ وہ بنی نوع انسان کی گردن کو (ظاہری اور باطنی ) غلامی سے آزاد کرانے اور بھوک اور قحط کے اوقات میں کھانا کھلانے میں مرکوز ہے (خصوصاً ) ایسے یتیم کو کھانا کھلانا جو یتیم کے علاوہ رشتہ داری کا حق بھی رکھتا ہے اور پھر ایسے بے بس مسکین کو کھانا کھلا نا جو غربت کے علاوہ اپنی انتہائی پستی میں خاک افتادہ بھی ہے۔“ جب میں ان آیات پر پہونچا جن میں یتیموں اور مسکینوں کو کھانا کھلانے کا ذکر ہے تو میں نے خیال کیا کہ ہمارا خدا تیموں اور مسکینوں کا کتنا زبردست حامی ہے کہ ان کی خدمت کو ایک روحانی گھائی کے طور پر ظاہر کر کے گویا انسانی نجات کا ذریعہ قرار دے دیا ہے۔مگر ساتھ ہی میرے دل میں یہ کھٹک پیدا ہوئی کہ ایک یتیم رشتہ دار کو صرف روٹی دے دینا یا ایک خاک افتادہ مسکین کو صرف کھانا کھلا دینا بے شک ایک قابل قدر نیکی ہے۔مگر یہ کوئی ایسی اعلیٰ درجہ کی نیکی نہیں جسے گویا ایک عظیم الشان روحانی گھائی کے لفظ سے تعبیر کیا جائے۔خصوصاً جبکہ محض کھانا کھلانا ایسے رنگ میں بھی ہوسکتا ہے جس طرح کہ مثلاً اعلیٰ ذات کے ہند و پنچ ذات کے لوگوں کو روٹی دیتے ہیں۔جس میں ہمدردی اور اعانت کی بجائے تحقیر کا پہلو زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔کیونکہ اس ڈر سے کہ کہیں اس غریب کے جسم کا کوئی ناپاک حصہ ان کے پاک جسم کے ساتھ نہ چھوئے وہ خود تو پرے پرے سمٹتے جاتے ہیں۔اور اپنے ہاتھ کو لمبا کر کے اس غریب کی طرف روٹی پھینک دیتے ہیں۔بلکہ میں نے یہ خیال کیا کہ محض روٹی دینا تو اس رنگ میں بھی ہو سکتا ہے کہ جیسے کوئی شخص کسی گلی کے کتے کو روٹی ڈال دیتا ہے۔پس میرے دل نے کہا کہ اسلام کا رحیم وکریم خدا محض کھانا کھلانے کی نیکی کو اس شاندار صورت میں پیش نہیں کر سکتا جیسا کہ ان آیات میں کیا گیا ہے۔خصوصاً جبکہ قرآن نے مسکیناً کے لفظ کے ساتھ ذا متربة کے الفاظ بھی زیادہ کئے ہیں۔جس کا یہ مطلب ہے کہ ایسا مسکین جو اپنی پستی میں گویا خاک افتادہ ہے۔اور مٹی کے اندرلت پت ہو رہا ہے۔کھانا کھلانا بیشک ایک بھوکے کی بھوک کا علاج تو ہے اور اپنے اندر قابل تعریف ہے۔مگر یہ جو خدائے حکیم نے مسکیناً کے لفظ کے ساتھ ذا متربة کے الفاظ زیادہ کئے ہیں۔یعنی ”خاک افتادہ مسکین۔سو اس خاک افتادگی کا بھی تو کوئی علاج مذکور ہونا چاہیئے۔ورنہ نیکی ادھوری رہے گی اور بیماری کا ایک حصہ اسی طرح قائم چلا جائے گا۔میں اسی فکر میں غلطاں و پیچاں تھا کہ اچانک بجلی کی طرح میرے دل میں یہ خیال آیا کہ لغت