مضامین بشیر (جلد 1) — Page 652
مضامین بشیر ۶۵۲ رحمت اپنے اظہار کے لئے بعض اور دروازے کھول دیتی ہے۔جن کے ذریعہ وہ اپنے بندوں کے دکھتے ہوئے دلوں پر محبت اور شفقت کا پھا یہ رکھ دیتا ہے۔چنانچہ اس حادثہ سے قبل اس نے اپنے بہت سے بندوں پر خوابوں وغیرہ کے ذریعہ پہلے سے ظاہر کر دیا تھا کہ عنقریب کوئی تکلیف دہ حادثہ ہونے والا ہے۔جس کی تین غرضیں تھیں۔اول یہ کہ اس قبل از وقت انکشاف کے ذریعہ وہ اپنے بندوں کے ساتھ اپنے ذاتی تعلق کا اظہار کرنا چاہتا تھا۔کہ دیکھو میں تمہارے ساتھ ہوں۔اور چونکہ میرے ازلی قانون کے ماتحت تمہیں ایک صدمہ پہنچنے والا ہے اس لئے میں اس انکشاف کے ذریعہ تمہارے ساتھ پہلے سے ہمدردی کا اظہار کئے دیتا ہوں۔یعنی گو قانون نیچر کو بدلنا تو میری مصلحت کے خلاف ہے مگر اس حادثہ سے یہ نہ سمجھنا کہ میں تم پر خفا ہوں اور تمہیں سزا دے رہا ہوں۔بلکہ حق یہ ہے کہ میں تم پر اس مقدر حادثه کا قبل از وقت انکشاف کر کے اپنا تعلق ظاہر کرنا چاہتا ہوں۔یہ اسی قسم کی بات ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک خاص الہام کے ذریعہ آج سے قریباً ساٹھ سال پہلے بتایا گیا کہ : - تیری نسل بہت ہوگی اور میں تیری ذریت کو بہت بڑھاؤں گا۔اور برکت دوں گا۔مگر بعض ان میں سے کم عمری میں بھی فوت ہوں گے۔۲۷ اس الہام میں صاف طور پر بتایا گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسل میں بعض کی وفات کم عمری میں واقع ہوگی۔اور اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے اتنا عرصہ پہلے اسی غرض سے ظاہر کیا کہ تا اس قسم کے حادثہ کو شریر لوگ غضب الہی کا نتیجہ قرار نہ دیں۔بلکہ ایک پیشگوئی کا ظہور سمجھیں۔ورنہ ظاہر ہے کہ بعض بچے صغرسنی میں فوت ہوا ہی کرتے ہیں۔اور یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی کہ اس کے اظہار کی ضرورت سمجھی جاتی۔پس یہ انکشاف صرف اسی غرض سے کیا گیا کہ تا خدا تعالیٰ قبل از وقت خبر دے کر اس قسم کے مقدر واقعات کو بھی اپنے تعلق کی نشانی قرار دے۔دوسرے قبل از وقت انکشاف سے یہ بھی فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ تالوگوں کے ذہن اس قسم کے حادثہ کے لئے پہلے سے تیار ہو جا ئیں۔اور صدمہ کی فوری نوعیت کی شدت میں کمی آجائے۔تیسرے ایسے انکشافات میں خدائی رحمت کا یہ پہلو بھی مدنظر ہوتا ہے کہ تا خواب دیکھنے والے لوگ اور وہ لوگ جن تک ان خوابوں کا ذکر پہنچے دعا اور صدقہ و خیرات اور ذکر الہی کی طرف متوجہ ہو کر اپنے واسطے اخروی سامان پیدا کریں۔اور ان میں سے جس شخص کی موت مقدر ہے اس کا انجام خشیت اور تقوی اللہ کے ماحول میں ہو۔سو یہ سب رحمت کے پہلو ہیں جو ہمارے رحیم و کریم خدا نے اس موقع پر ہمارے لئے پیدا کر دئیے۔چنانچہ قدسیہ مرحومہ کے حادثہ سے قبل حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ نے خواب دیکھا۔میں نے خواب دیکھا۔قدسیہ کے والد نے خواب دیکھا۔قدسیہ کی والدہ نے خواب دیکھا۔خود قدسیہ نے خواب