مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 649 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 649

۶۴۹ مضامین بشیر ہے۔اور صرف ایسے لوگوں کے دل کو بہلا سکتا ہے جو اسلام کی تعلیم سے ہی بے بہرہ نہیں ہیں۔بلکہ سنت اللہ اور قانون نیچر کے اصولوں سے بھی قطعاً نا واقف ہیں۔ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی حکیمانہ قدرت کے ماتحت دنیا میں دو قانون جاری رکھے ہیں۔ایک قانون شریعت ہے جو روحانی اور اخلاقی امور سے تعلق رکھتا ہے۔اور نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے ظاہر ہوتا آیا ہے۔اور تمام مذاہب کے شرعی قوانین اسی دائرہ کے ساتھ وابستہ ہیں۔اس قانون کی رو سے دنیا دارالعمل ہے۔اور آخرت کی دنیا۔دار الجزاء مثلاً یہ ایک شرعی قانون ہے کہ جو شخص سچی نیت اور صحیح طریق پر نماز روزہ اور حج زکواۃ کی پابندی اختیار کرے گا اسے خدا کا قرب حاصل ہو گا۔اور وہ آخرت میں اس کا کھلے طور پر اجر پائے گا۔دوسرے قانون قضا و قدر یا قانون نیچر ہے جو مادیات کے میدان میں خواص الاشیا اور ان کے با ہمی اسباب و نتائج سے تعلق رکھتا ہے۔یہ قانون خدائی الہام کے ذریعہ ظاہر نہیں ہوتا بلکہ خود صحیفہ فطرت میں ایک ازلی حقیقت کے طور پر مرکوز ہے۔اور اس کا عمل بدیہی طور پر سب لوگوں کو نظر آرہا ہے مثلاً آگ جلاتی ہے اور پانی بجھاتا اور ٹھنڈک پہنچاتا ہے۔یا مثلاً با دل پانی برساتے ہیں اور زمین روئیدگی نکالتی ہے یا مثلاً یہ کہ انسان غرقاب پانی میں ڈوب جاتا ہے جب تک کہ وہ تیر نے کا فن سیکھ کر اپنے آپ کو بچانے کی تدبیر نہ اختیار کرے۔اسی طرح یہ کہ جو شخص آگ میں گرے گا وہ ضرور جلے گا سوائے اس کے کہ اس کے بچانے کا کوئی خارجی سبب پیدا ہو جائے وغیرہ وغیرہ۔انہی دو قا نونوں کی طرف قرآن شریف نے سورہ مائدہ کی اس آیت میں اشارہ کیا ہے کہ :- لِكُلِّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا ٢٦ یعنی اے بنی نوع انسان ہم نے تم سب کے لئے دو قانون بنائے ہیں۔ایک قانون شریعت یعنی گھاٹ تک پہنچنے کا رستہ ( کیونکہ شرعتہ گھاٹ کے رستہ کو کہتے ہیں اور چونکہ پانی زندگی کا ذریعہ ہے اور خدا منبع حیات ہے اس لئے گھاٹ کے رستہ سے روحانی قانون مراد ہے۔جو خدا تک پہنچاتا ہے ) اور دوسرے مادی قانون جو صحیفہ فطرت میں کھلے طور پر کام کرتا نظر آتا ہے۔( کیونکہ عربی میں منہاج واضح طور پر نظر آنے والے رستہ کو کہتے ہیں ) الغرض اللہ تعالیٰ نے دنیا میں دو قانون جاری کر رکھے ہیں۔ایک قانون شریعت اور دوسرے قانونِ نیچر یا قضا وقدر۔قانون شریعت طوعی ہے۔یعنی انسان اس کے معاملہ میں مختار ہے کہ چاہے تو اسے قبول کرے اور چاہے تو رڈ کر دے مگر قانون نیچر جبری ہے۔گونتیجہ بہر حال دونوں کا لازمی طور پر نکلتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی کامل حکمت نے ان دونوں قانونوں کو عام حالات میں ایک دوسرے سے