مضامین بشیر (جلد 1) — Page 646
مضامین بشیر ۶۴۶ جب اس حادثہ کی اطلاع حضرت امیر المومنین خلیفہ امسیح ایدہ اللہ کو پہنچی تو حضور نے ایک طرف تو مجھے ( جو ایک دوسری کوٹھی میں کچھ فاصلہ پر ٹھہرا ہو ا تھا ) فوری اطلاع بھجوائی۔اور دوسری طرف خود عزیزم ڈاکٹر منور احمد اور چند دوسرے اصحاب کو ساتھ لے کر جائے حادثہ کی طرف جو حضور کی کوٹھی سے تین چار میل کے فاصلہ پر تھی روانہ ہو گئے۔مگر جب حضور وہاں پہنچے (اور حضور کے تھوڑی دیر بعد میں بھی وہاں پہنچ گیا ) تو قدسیہ مرحومہ فوت ہو چکی تھی۔طبی اصول کے ماتحت اسے مصنوعی تنفس اور ٹیکوں وغیرہ کے ذریعہ بحال کرنے کی کوشش کی گئی۔مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ پہلے دھکہ میں ہی حرکت قلب کے بند ہو جانے سے جان بحق ہو چکی تھی۔اس وقت اس کے قریب ایک ہندولڑ کی بھی بیہوشی کی حالت میں پڑی تھی اور عزیز ڈاکٹر منور احمد نے حضرت صاحب کی ہدایت کے ماتحت اس کی طرف بھی فوری توجہ دی اور چونکہ وہ صرف بیہوشی کی حالت میں تھی۔عزیز موصوف کی کوشش سے (اس کے کچھ عرصہ بعد بعض اور ڈاکٹر بھی پہنچ گئے تھے ) اس کی طبیعت سنبھل گئی۔اور پھر حضرت صاحب کی ہدایت کے ماتحت اس بیمار ہندولڑکی کو ڈانڈی میں بٹھا کر پہلے روانہ کیا گیا۔اور بعد میں ہمارا قافلہ آیا اور چونکہ بلندی کے علاوہ تازہ بارش کی وجہ سے اس وقت سردی کافی تھی۔اس لئے اس بیمار ہندولڑ کی کو گرم رکھنے کے لئے بعض زائد کپڑے جن میں قدسیہ مرحومہ کا ایک نیا کمبل بھی تھا اسے اڑھا دئیے گئے۔اور خود قدسیہ کو ایک خادم کی چادر میں ڈھانک کر روانہ کر دیا گیا۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر خدا نے قدسیہ کو عالم بالا میں ان واقعات کا علم دیا ہوگا۔تو اسکی نیک روح اس خیال سے خوش ہوئی ہوگی کہ ، گوخود اس کے جسم کو ڈھانکنے کے لئے ایک خادم کی میلی سی چادر ملی ہے۔اس کا اپنا مکمل ایک ہندولڑ کی کی زندگی کی حفاظت میں استعمال ہو رہا ہے۔کیونکہ خدا کے فضل سے ہم مسلمان اس روحانی نسل سے تعلق رکھتے ہیں جن کے قابل فخر آباء واجداد جنگ کے میدانوں میں شہید ہو کر کپڑے کی قلت کی وجہ سے مٹی سے آلودہ گھاس میں لپیٹ کر قبروں میں اتارے گئے۔اور ان کی پاک روحوں نے اسی میں بہترین فخر محسوس کیا۔حالانکہ ان کے بعد آنے والے روساء اور ملوک جوان کے پاؤں کی خاک کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتے۔ریشم کے دوشالوں میں لپٹ کر آخری آرام گاہ میں پہنچتے رہے ہیں بیچ ہے کہ انسان کا مرتبہ اس کے ظاہری جاہ و جلال میں نہیں ہے۔اس کی روح کی بلندی اور اسکے خالق و مالک کے قرب میں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ( فدا نفسی ) سے کون بڑا پیدا ہوا ہے۔اور کون بڑا پیدا ہو گا۔مگر آپ کی زندگی کا یہ حال تھا کہ ایک دفعہ آپ آرام کے لئے لیٹنا چاہتے تھے تو ایک کھردری سی پرانی چٹائی کے سوا کچھ میسر نہیں آیا۔چنانچہ آپ اسی پر لیٹ گئے اور جب آپ اٹھے تو مٹی اور گرد کے علاوہ اس چٹائی کے موٹے موٹے پٹھوں نے آپ کے جسم مبارک پر نشان ڈال رکھے تھے۔