مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 58 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 58

مضامین بشیر ۵۸ نے انہی دنوں میں سیرت المہدی حصہ دوئم میں جو ان ایام میں زیر تالیف ہے ، اس روایت کے متعلق ایک تشریحی نوٹ درج کر دیا تھا اور میں چاہتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب کا جواب دینے سے پہلے یہ نوٹ احباب کے سامنے پیش کردوں کیونکہ یہ نوٹ سیرۃ المہدی حصہ دوئم کے مسودے میں آج سے ایک سال پہلے کا لکھا ہوا موجود ہے۔جبکہ ابھی ڈاکٹر صاحب کا مضمون معرض تحریر میں بھی نہیں آیا تھا۔میرے اس بیان کے تسلیم کرنے میں اگر ڈاکٹر صاحب کو کوئی تامل ہے اور وہ میرے اس نوٹ کو اپنی جرح کے جواب میں لکھا ہوا خیال کریں تو ان کا اختیار ہے لیکن میں خدا تعالیٰ کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ میرا یہ نوٹ ڈاکٹر صاحب کے مضمون کے شائع ہونے سے کم از کم ایک سال قبل کا لکھا ہوا ہے اور اگر میں بھولتا نہیں تو بعض دوستوں نے اسے اسی زمانہ میں مسودے کی صورت میں مطالعہ بھی کیا تھا۔ان دوستوں میں سے چودہری ظفر اللہ خان صاحب بیرسٹر امیر جماعت احمدیہ لاہور، مولوی جلال الدین صاحب شمس مبلغ شام اور نیک محمد خان صاحب کے نام مجھے اچھی طرح یاد ہیں۔مقدم الذکر دوا حباب نے سیرۃ المہدی حصہ دوئم کا مسودہ لاہور میں مطالعہ کیا تھا۔جبکہ میں گذشتہ سال ماہ جون میں تبدیل آب و ہوا کے لئے منصوری جاتا ہوا دو دن کے لئے لاہور ٹھہرا تھا اور مؤخر الذکر صاحب نے غالباً ماہ جولائی ۱۹۲۵ء میں بمقام منصوری اسے پڑھا تھا۔یہ دوست اگر بھول نہ گئے ہوں تو اس امر کی شہادت دے سکتے ہیں کہ جو نوٹ اس روایت کے متعلق ذیل میں درج کرتا ہوں وہ آج کا نہیں بلکہ آج سے کم از کم ایک سال قبل کا لکھا ہوا ہے۔وہ نوٹ یہ ہے :۔وو روایت نمبر ۳۲۲۔بسم الله الرحمن الرحيم خاکسار عرض کرتا ہے کہ سیرۃ المہدی حصہ اوّل کی روایت نمبر ۱۰ ( صحیح نمبر11) میں خاکسار نے یہ لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام منگل کے دن کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔اس کا مطلب بعض لوگوں نے غلط سمجھا ہے۔کیونکہ انہوں نے اس سے ایسا نتیجہ نکالا ہے کہ گویا منگل کا دن ایک منحوس دن ہے جس میں کسی کام کی ابتداء نہیں کرنی چاہئیے۔ایسا خیال کرنا درست نہیں اور نہ حضرت صاحب کا یہ مطلب تھا۔بلکہ منشاء یہ ہے کہ جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے ، دن اپنی برکات کے لحاظ سے ایک دوسرے پر فوقیت رکھتے ہیں۔مثلاً جمعہ کا دن مسلمانوں میں مسلمہ طور پر مبارک ترین دن سمجھا گیا ہے۔اس سے اتر کر جمعرات کا دن اچھا سمجھا جاتا ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفروں کی ابتداء اس دن میں فرماتے تھے۔خلاصہ کلام یہ کہ دن اپنی برکات و تاثیرات کے لحاظ سے ایک دوسرے پر فوقیت