مضامین بشیر (جلد 1) — Page 622
مضامین بشیر ۶۲۲ غریبوں کی زائد امداد کے لئے یہ سفارش بھی فرمائی کہ جو شخص مقررہ زکوۃ سے زیادہ دے سکے تو اس کا یہ فعل خدا کی نظر میں بہت مقبول و محبوب ہوگا۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زکوۃ کے مسائل بیان فرماتے ہوئے اکثر فرمایا کرتے تھے :- " إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا كَ یعنی یہ حصہ تو فرض ہے لیکن اگر کوئی صاحب تو فیق شخص اس سے زیادہ دینا چاہے تو وہ خوشی سے قبول کیا جائے گا۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ بطور اپیل کے فرمائے تھے کہ جن لوگوں کو تو فیق ہو وہ زیادہ دیا کریں۔چنانچہ جب ایک صحابی نے جس پر ایک اونٹ کا بچہ دینا فرض تھا ایک جوان اونٹ زکوۃ میں پیش کیا تو آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے فعل پر بہت خوش ہوئے اور اُس کے لئے برکت کی دعا فرمائی۔(۸) اسی طرح حکم ہے کہ زکوۃ دینے والا اپنے مال میں سے خراب یا ناقص حصہ نکال کر نہ دے یہ کہ مثلاً اگر مویشیوں میں سے زکوۃ دینی ہو تو کوئی مریض یا کمزور یا عیب دار جانور دے دے۔یا اگر پھل میں سے زکوۃ دینی ہو تو سٹرا ہوا یا مرجھایا ہوا یا ٹھٹھرا ہوا پھل پیش کر دے۔بلکہ اچھا مال دینا چاہیئے۔گو ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نصیحت بھی فرمائی ہے کہ زکوۃ وصول کرنے والے افسر کے لئے بھی یہ جائز نہیں کہ بہترین مال دیکھ کر اس پر قبضہ کرے۔بلکہ ملتا جلتا اوسط مال لینا چاہیئے۔(۹) زکوۃ کی وصولی میں سہولت پیدا کرنے کی غرض سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ " لا جَلْبَ وَلَا جَنْبَ وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِي دَيَارِهِمْ ^ یعنی نہ تو یہ ہونا چاہیئے کہ زکوۃ وصول کرنے والا افسر لوگوں کو تنگ کرے یعنی خود ایک جگہ بیٹھا رہے اور لوگوں کو مجبور کرے کہ وہ اپنے مالوں کو لے کر اس کے پاس پہنچیں۔بلکہ اسے خود ان کی جگہوں پر جانا چاہیئے۔اور دوسری طرف یہ بھی نہیں ہونا چاہیئے کہ زکوۃ دینے والے لوگ دیر کرنے یا افسروں کو تکلیف میں ڈالنے کے خیال سے اپنے مالوں کو لے کر دور دراز علاقوں میں نکل جائیں۔کیونکہ اس طرح غرباء تک ان کا حق پہنچنے میں نا واجب تو قف کا رستہ کھلتا ہے۔اسلام کی یہ تعلیم بھی آجکل کے حکام کے لئے ایک شرم دلانے والا سبق ہے، جو دولت اور ثروت