مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 620 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 620

مضامین بشیر ۶۲۰ چاندی پر دوسو درہم سے کم پر زکوۃ نہیں ، سونے پر میں دینار سے کم پر زکوۃ نہیں ، غلہ پر ساڑھے بائیس من سے کم پر زکوۃ نہیں ، بکریوں ، بھیڑوں پر چالیس راس سے کم پر زکوۃ نہیں ، گائے ، بھینس پر تمیں راس سے کم پر زکوۃ نہیں وغیرہ ذالک۔ان اتبدائی حصوں کو زکوۃ سے آزا در رکھنے میں یہ دوہری حکمت مد نظر ہے کہ : - ( الف ) چونکہ یہ ٹیکس غرباء کی امداد کی غرض سے لگایا گیا ہے اس لئے خودغریب لوگ اس ٹیکس کی زد میں آنے سے بچے رہیں اور اس کا بوجھ صرف امیروں پر پڑے۔(ب) شخصی کمائی کا ایک حصہ بہر حال ٹیکس سے آزا در ہے۔تا کہ یہ فطری تقاضا کہ انسان کو اس کی محنت کا معقول ثمرہ حاصل ہونا چاہیئے پورا ہوتا رہے۔اس ضمن میں یہ بات خصوصیت سے قابل توجہ ہے کہ موجودہ انگریزی قانون میں یہ ایک بھاری نقص ہے کہ جہاں اس قانون میں انکم ٹیکس کی اغراض کے ماتحت آمد کے کچھ حصہ کو ٹیکس سے آزاد رکھا جاتا ہے۔وہاں زمیندار کی آمد کا کوئی حصہ بھی آزاد نہیں رکھا جاتا۔بلکہ اگر کسی زمیندار کی صرف ایک مرلہ زمین ہے تو اس پر بھی ٹیکس لگا دیا جاتا ہے جو ایک صریح ظلم ہے۔علاوہ ازیں جہاں شریعت زمینوں کے ٹیکس یعنی عشر یا نصف عشر کو پیدا وار کی بنیاد پر تشخیص کرتی ہے۔وہاں انگریزی قانون پیداوار کی طرف سے آنکھ بند کر کے محض رقبہ کی بنیاد پر ٹیکس لگا دیتا ہے۔خواہ کسی سال میں اس رقبہ میں ایک دانہ تک بھی پیدا نہ ہوا ہو۔خاکسار راقم الحروف نے سینکڑوں ایسی مثالیں دیکھی ہیں کہ ایک غریب زمیندار کی زمین میں ایک دانہ بھی پیدا نہیں ہوالیکن پھر بھی چونکہ حکومت کا ٹیکس بہر حال رقبہ کی بنیاد پر واجب الادا ہوتا ہے اس لئے اس غریب زمیندار نے کسی بنیئے وغیرہ سے قرض لے کر سر کاری معاملہ ادا کیا۔اور پھر اس قرض کی وجہ سے ایسے چکر میں پڑا ہے کہ ساری عمر اس سے نجات نہیں ملی۔شریعت اسلامی کے نظام میں اس ظلم کے دروازہ کو قطعی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔کیونکہ شریعت میں ٹیکس کی بنیاد پیداوار پر رکھی گئی ہے نہ کہ رقبہ پر اور پھر پیدا وار میں سے بھی شریعت ایک حصہ کو ٹیکس سے کلیتہ آزا د ر کھتی ہے۔چونکہ اسلام خزانوں اور دفینوں کی صورت میں روپیہ بند رکھنے کا سخت مخالف ہے۔اور اس بات کا زبر دست حامی ہے کہ روپے کو کام میں لگا کر چکر دیا جائے تا کہ ایک طرف تو قوم میں سرمایہ داری کی روح نہ پیدا ہوا اور دوسری طرف روپے کے کام پر لگنے سے غرباء کو فائدہ پہونچ سکے۔اس لئے اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ جو لوگ خزانوں اور دفینوں کی صورت میں مال جمع کر کے اسے بند ر کھتے ہیں۔انہیں اخروی سزا کے علاوہ اس دنیا میں بھی بھاری ٹیکس کے نیچے لانا چاہیئے۔چنانچہ کنوز اور رکاز میں اسلام نے ہیں فیصدی بالمقطع ٹیکس لگایا ہے۔اور بچے ہوئے مال پر جو کاروبار میں لگ جائے عام زکوۃ اس کے۔