مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 619 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 619

۶۱۹ مضامین بشیر اور چونکہ خدا سب کا ہے۔اس لئے میرا فرض ہے کہ میں اپنے مال میں سے اپنے غریب بھائیوں کا بھی حصہ نکالوں۔(۲) اس لفظی اشارہ کے علاوہ اسلام نے زکوۃ کی غرض و غایت ان جامع و مانع الفاظ میں بھی پیش کی ہے کہ : - صَدَقَةٌ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَا ئِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ ؟ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ زکوۃ وہ مبارک ٹیکس ہے جو قوم کے غنی اور دولت مند لوگوں سے وصول کیا جاتا ہے۔اور قوم کے غریب اور حاجتمند لوگوں کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہ پیارے الفاظ اپنے اندر عظیم الشان حکمتیں رکھتے ہیں۔جو مختصر طور پر اس طرح بیان کی جاسکتی ہیں کہ : - (الف) زکوۃ کی غرض وغایت ملک میں دولت کو سمونا ہے تا کہ جن لوگوں کے پاس ان کی ضرورت سے زیادہ مال ہو ، ان سے ان کے مال کا ایک معین حصہ ( جو حالات کے اختلاف کے ساتھ اڑھائی فیصدی سے لے کر بیس فی صدی تک بنتا ہے ) وصول کر کے ان غریبوں کو دیا جا سکے جن کے پاس ان کی ضرورت سے کم مال ہے۔( ب ) یہ وصولی اور یہ خرچ دونوں حکومت کے انتظام میں ہوں گے۔جیسا کہ الفاظ تـو خــذ ( لیا جائے ) اور تو ڈ ( دیا جائے ) میں بیان کیا گیا ہے۔یہ نہیں کہ زکوۃ دینے والے لوگ خود بخود اپنے طور پر غریبوں میں تقسیم کر دیں۔کیونکہ اس میں سستی اور لحاظ داری اور احسان مندی کا دروازہ کھلتا ہے۔( ج ) یہ زکوۃ امیروں کی طرف سے احسان کے طور پر نہیں ہے بلکہ غریبوں کا حق ہے۔جیسا کہ لفظ ترد (لوٹا یا جائے ) میں اشارہ ہے۔جس میں یہ بتانا مقصود ہے کہ چونکہ دولت پیدا کرنے کے ذرائع سب خدا کے پیدا کردہ ہیں۔اور خدا نے یہ سب کچھ مجموعی طور پر سارے انسانوں کے لئے پیدا کیا ہے۔اس لئے جو شخص اپنے مال میں سے غریبوں کا وہ حصہ جو خدا کی طرف سے بطور حق کے مقرر ہے، نہیں نکالتا وہ گویا حرام کھاتا ہے۔اور اپنے سارے مال کو گندہ کر لیتا ہے۔(۳) زکوۃ میں نصاب ( یعنی وہ تعداد یا وہ مقدار جس پر زکوۃ واجب ہوتی ہے ) اس اصول کے ماتحت مقرر کیا گیا ہے کہ مال کا کچھ ابتدئی حصہ زکوۃ سے آزاد چھوڑ کر صرف اوپر والے حصہ پر زکوۃ لگائی گئی ہے۔اور یہ نہیں کیا گیا کہ ہر چھوٹے سے چھوٹے مال پر بھی زکوۃ لگا دی گئی ہو۔مثلاً