مضامین بشیر (جلد 1) — Page 618
مضامین بشیر ۶۱۸ بنی نوع انسان کے لئے ہر جہت سے ترقی اور طہارت کا باعث ہے۔یعنی یہ ترقی اور طہارت کا باعث ہے۔اس غنی کے لئے جو اپنے مال میں سے زکوۃ دیتا ہے۔یہ ترقی اور طہارت کا باعث ہے۔اس غریب کے لئے جو زکوۃ میں سے حصہ پاتا ہے۔یہ ترقی اور طہارت کا باعث ہے۔اس حکومت کے لئے جو ز کوۃ کی وصولی اور تقسیم کا انتظام کرتی ہے اور بالآخر یہ ترقی اور طہارت کا باعث ہے خود اس مال کے لئے بھی جس میں سے زکوۃ دی جاتی ہے۔پس اسلام نے اس ایک لفظ کے اندر ہی ان عظیم الشان اغراض و مقاصد کی طرف اشارہ کر دیا ہے جو زکوۃ کے نظام میں ہمارے خالق و مالک کے مدنظر ہیں۔مگر قرآن شریف نے صرف اس لفظی اشارہ پر ہی اکتفا نہیں کی۔بلکہ اس حقیقت کو ایک واضح بیان کے ذریعہ بھی کھول دیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے :- وو وَمَا اتَيْتُمُ مِنْ رِبًا لِيَرُ بُوَافِى اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُوا عِنْدَ اللَّهِ وَمَا أتَيْتُمُ مِنْ زَكوةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ یعنی جو سود تم اس خیال سے دیتے ہو کہ تا اس ذریعہ سے لوگوں کے مالوں میں زیادتی ہو۔تو یا درکھو کہ خدا کے نزدیک ایسا مال ہرگز نہیں بڑھتا۔مگر جو ز کوۃ تم خدا کی رضا کی خاطر دیتے ہو۔اس کے ذریعہ تم ضرور سب کے لئے ترقی کا رستہ کھول دیتے ہو۔“ اور دوسری جگہ فرماتا ہے :۔خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُ هُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا یعنی اے رسول تو مومنوں سے صدقہ اور زکوۃ وصول کر۔کیونکہ اس ذریعہ سے تو انہیں پاک ہونے اور بڑھنے میں مدد دے گا۔“ دوسرا لفظ جو ز کوۃ کے لئے اسلام نے استعمال کیا ہے ، وہ صدقہ کا لفظ ہے مگر یہ یا درکھنا چاہیئے کہ صدقہ کا لفظ زکوۃ کے لفظ کی نسبت زیادہ عام ہے۔کیونکہ زکوۃ کے علاوہ جو حکومت کے انتظام کے ماتحت وصول کی جاتی ہے وہ ان طوعی اور انفرادی صدقات پر بھی بولا جاتا ہے جو ایک فردا اپنے طور پر دوسرے فرد یا افراد کو دیتا ہے اور جن کی اسلام میں بڑے زور سے تحریک کی گئی ہے۔صدقہ کا لفظ جو صدق سے نکلا ہے۔اس کے معنی صرف سچ بولنے کے ہی نہیں ہیں۔بلکہ اپنے دعوی کے مطابق سچا عمل کرنے کے بھی ہیں۔پس زکوۃ کو صدقہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ انسان کے صدق اور اخلاص کی علامت ہے۔یعنی جس طرح انسان منہ سے خدا اور رسول کو ماننے اور مومنوں کو اپنا بھائی سمجھنے کا دعویٰ کرتا ہے۔اس کے مطابق وہ عمل کر کے بھی دکھا دیتا ہے۔کہ میر اسب مال ومتاع خدا کے لئے ہے۔