مضامین بشیر (جلد 1) — Page 607
۶۰۷ مضامین بشیر جذبات رکھنے چاہئیں۔بلکہ چونکہ تم اس کی مخلوق اور خادم بھی ہو۔اس لئے اشد ذكراً والا معاملہ ہونا چاہیئے۔اسی ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ مبارک کلام بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہے کہ میں جو خدا کی عبادت کرتا اور اس کی راہ میں جد و جہد سے کام لیتا ہوں تو میرا یہ فعل کسی جزاء یا انعام کے خیال سے ہرگز نہیں ہے بلکہ اگر مجھے خدا کی طرف سے یہ آواز آئے کہ تیری یہ ساری عبادت اور یہ ساری جد و جہد غیر مقبول ہے تو پھر بھی میری عبادت اور میری خدمت میں ذرہ بھر فرق نہ آئے۔کیونکہ میرا دل خدا کی طرف جزاء سزاء کے واسطہ سے نہیں بلکہ محبت کی تاروں کے ساتھ کھچا ہوا ہے۔( یہ الفاظ میرے ہیں کیونکہ مجھے اس وقت اصل حوالہ یاد نہیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض ڈائریوں میں میں نے اس مفہوم کا کلام ضرور دیکھا ہے۔اور بعض گذشتہ اولیاء اللہ کے کلام میں بھی ایسے حوالے پائے جاتے ہیں ) الغرض خدا کے تعلق میں نیک اعمال کی بھی تین اقسام ہیں جن کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے۔اور یہی وہ مفہوم ہے جو اس عزیز کے سوال پر میرے دل میں آیا۔اب رہا آیت کے دوسرے حصہ کا سوال جو فحشاء اور منکر اور بغی سے رکنے کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔سو جس طرح کہ عدل اور احسان اور ایتائی ذی القربی مثبت قسم کی نیکیاں یہ منفی قسم کی نیکیاں ہیں۔یعنی آیت کے پہلے حصہ میں تین باتوں کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور آیت کے دوسرے حصہ میں تین باتوں کو ترک کرنے کا ارشاد ہے۔اور جس طرح پہلے حصہ میں ایک طبعی ترتیب رکھی گئی ہے۔اسی طرح دوسرے حصہ میں بھی ایک طبعی ترتیب پائی جاتی ہے۔چنانچہ سب سے اول فحشاء کو رکھا گیا ہے۔جس کے کئی معنی ہیں۔مگر اس جگہ اس سے ایسی بدیاں مراد ہیں جو دوسروں تک نہیں پہنچتیں۔اور انسان کے اپنے نفس تک محدود رہتی ہیں۔یعنی وہ بدیاں جو انسان قانون کے الفاظ پر قائم رہتے ہوئے قانون کی روح کو توڑنے کی صورت میں کرتا ہے۔دنیا میں ایسے لوگ بہت ہیں کہ وہ ایک قانون کو مانتے ہیں۔اور صرف مانتے ہی نہیں بلکہ اس پر بظاہر عمل بھی کرتے ہیں مگر اس قانون کی روح کی طرف سے غافل رہتے ہیں اور بظا ہر قانون پر قائم رہتے ہوئے بھی اس روح کو عملاً کچلتے چلے جاتے ہیں۔ایسے لوگوں کے لئے ہی قرآن شریف فرما تا ہے کہ ” وَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَوتِهِمْ سَاهُونَا یعنی افسوس ہے ان لوگوں پر جو بظا ہر نماز تو پڑھتے ہیں مگر نماز کی حقیقت سے غافل ہیں۔“ اور دوسری جگہ فرماتا ہے :-