مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 54 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 54

مضامین بشیر ۵۴ خلاف روایتیں درج کر دی ہیں۔اب آپ خود فرمائیں کہ اس حالت میں میں کروں تو کیا کروں۔اپنی درایت سے کام لوں تو میری کتاب محمودی عقائد کی کتاب بنتی ہے اور اگر درایت سے کام نہ لوں تو یہ الزام آتا ہے کہ درایت کا پہلو کمزور ہے ایسی حالت میں میرے لئے آپ کے خوش کرنے کا سوائے اس کے اور کونسا رستہ کھلا ہے کہ میں درایت سے کام تو لوں مگر اپنی درایت سے نہیں بلکہ آپ کی درایت سے اور ہر بات جو آپ کے عقیدہ کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طریق عمل اور تحریرات کے خلاف ہو، اُسے رڈ کرتا جاؤں جس کا نتیجہ یہ ہو کہ جب کتاب شائع ہو تو آپ خوش ہو جائیں کہ اب یہ کتاب روایت و درایت ہر دو پہلو سے اچھی ہے کیونکہ اس میں کوئی بات لا ہوری احباب کے عقائد کے خلاف نہیں۔اگر جرح و تعدیل کا یہی طریق ہے تو خدا ہی حافظ ہے۔یہ سب کچھ میں نے ڈاکٹر صاحب کے اصول کو مدنظر رکھ کر عرض کیا ہے ورنہ حق یہ ہے کہ میں نے جہاں تک میری طاقت ہے۔روایت و درایت دونوں پہلوؤں کو دیانتداری کے ساتھ علی قدر مراتب ملحوظ رکھا اور یہ نہیں دیکھا کہ چونکہ فلاں بات ہمارے عقیدہ کے مطابق ہے اس لئے اسے ضرور لے لیا جائے یا چونکہ فلاں بات لاہوری احباب کے عقیدہ کے مطابق ہے اس لئے اسے ضرور چھوڑ دیا جائے بلکہ جو بات بھی روایت کے رو سے میں نے قابل قبول پائی ہے اور درایت کے رو سے اسے حضرت مسیح موعود کی صریح اور اصولی اور غیر اختلافی اور محکم تحریرات کے خلاف نہیں پایا اور آپ کے مسلم اور غیر مشکوک اور واضح اور روشن طریق عمل کے لحاظ سے بھی اسے قابل رد نہیں سمجھا اسے میں نے لے لیا ہے مگر بایں ہمہ میں سمجھتا ہوں کہ گوشائد احتیاط اسی میں ہے جو میں نے کیا ہے۔لیکن بحیثیت مجموعی روایات کے جمع کرنے والے کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ صرف اصول روایت تک اپنی نظر کو محدود رکھے اور جو روایت بھی روایت کے اصول کے مطابق قابل قبول ہوا سے درج کر لے اور درایت کے میدان میں زیادہ قدم زن نہ ہو بلکہ اس کام کو ان لوگوں کے لئے چھوڑ دے جو عند الضرورت استدلال واستنباط کے طریق پر انفرادی روایات کو زیر بحث لاتے ہیں۔والا نتیجہ یہ ہوگا کہ شخصی اور انفرادی عقیدے یا مذاق کے خلاف ہونے کی وجہ سے بہت سی کچی اور مفید روایات چھوٹ جائیں گی۔اور دنیا ایک مفید ذخیرہ علم سے محروم رہ جائے گی۔یہ میری دیانتداری کی رائے ہے اور میں ابھی تک اپنی اس رائے پر اپنے خیال کے مطابق علی وجہ البصیرت قائم ہوں۔والله اعلم ولا علم لنا الا ما علمتنا۔ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کے اصولی اعتراض کا جواب دینے کے بعد اب میں ان مثالوں کو لیتا مطبوعه الفضل ۱۱ جون ۱۹۲۶ء