مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 600 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 600

مضامین بشیر ۶۰۰ ہے۔یہ ایک نفلی عبادت ہے جس میں انسان گویا خدا کی خاطر دنیا سے کامل انقطاع اختیار کرتا ہے۔دراصل اعتکاف روزہ کا معراج ہے اور اس میں انسانی فطرت کے اس جذ بہ کی تسکین کا سامان مہیا کیا گیا ہے جو کئی لوگوں کے اندر رہبانیت کی صورت میں پایا جاتا ہے۔اسلام نے اپنی کامل حکمت سے رہبانیت کو تو جائز نہیں رکھا مگر انسانی فطرت کے اس میلان کو کہ میں ظاہری طور پر بھی کلیتہ خدا کا ہو جاؤں۔اعتکاف کی اجازت دے کر پورا کر دیا ہے۔اعتکاف میں انسان اپنے شہادت کے عمل کو کمال تک پہنچاتا ہے۔اور اسے رمضان کے آخری عشرہ میں رکھنے میں یہ حکمت ہے کہ تا گویا زبان حال سے انسان سے یہ کہلوایا جائے کہ میں خدا کے لئے روزہ رکھنے سے تھکتا نہیں بلکہ جوں جوں دن گذرتے جاتے ہیں میری خدا تک پہنچنے کی پیاس ترقی کرتی جاتی ہے۔حتی کہ رمضان کے آخری ایام میں میں یوں ہو جاتا ہوں کہ گویا میرا سب کچھ خدا کے لئے ہو گیا ہے۔اور سچی بات یہ ہے کہ عید کی شیرینی بھی ایسے ہی لوگوں کے لئے ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ جب آخری عشرہ آتا تھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَحْيَاءَ اللَّيْلَ وَ أَيْقَظَ أَهْلَهُ، وَجَدَّ، وَشَدَّ الْمِعْزَرَ ٤٠ (۱۰) رمضان کے آخری عشرہ کے کمالات میں سے ایک لیلتہ القدر بھی ہے۔جس میں خدا کا ہاتھ رحمت کی بارش برسانے کے لئے زمین کے قریب تر ہو جاتا ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکثر فرمایا کرتے تھے کہ لیلتہ القدر کو آخری عشرہ کی وتر راتوں میں تلاش کرنا چاہیئے اے۔اور وتر میں سے زیادہ میلان ستائیسویں رات کی طرف پایا جاتا ہے لیکن اس بارے میں حصر نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ حصر میں علاوہ غلطی کے امکان کے انسان عمل کا دائرہ محدود ہو جاتا ہے۔خدا کا منشاء یہ ہے کہ روح کو اس کے آقا کی تلاش کے لئے زیادہ سے زیادہ چوکس و ہوشیار رکھا جائے۔قرآن شریف نے لیلتہ القدر کی شان میں کیا خوب الفاظ بیان فرمائے ہیں کہ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ ٢ یعنی اگر کسی شخص کو حقیقی لیلتہ القدر مل جائے تو وہ اس کے عمر بھر کے عمل سے بہتر ہے۔الف شهر کا عرصہ سالوں میں قریباً ساڑھے تر اسی سال بنتا ہے اور یہ لمبی انسانی عمر کی طرف اشارہ ہے۔یعنی خدا فرماتا ہے کہ لیلتہ القدر کا میسر آجانا بسا اوقات زندگی بھر کے عام اعمال سے بہتر ہو جاتا ہے۔اور زندگی بھی وہ جو عام اوسط زندگیوں سے لمبی ہو۔(11) روزوں کے متعلق ایک خاص بات یہ بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ جس طرح نماز میں خدا نے فرض نماز کے ساتھ سنت نماز مقرر فرمائی ہے جو گویا فرض نماز کے واسطے بطور محافظ اور پہرہ دار کے ہے