مضامین بشیر (جلد 1) — Page 601
۶۰۱ مضامین بشیر یا یوں سمجھنا چاہیئے کہ فرض نماز اندر کا مغز ہے اور سنتیں اس کے گرد کا چھلکا ہیں۔جو اُ سے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہیں۔اسی طرح رمضان کے فرض روزوں کے دونوں جانب یعنی رمضان سے قبل شعبان کے مہینہ میں اور رمضان کے بعد شوال کے مہینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر نفلی روزوں کی تحریک فرمائی ہے۔یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ مثلاً ظہر کی نماز میں جو دن کے مصروف ترین حصہ میں آتی ہے اسلام نے اس کے آگے پیچھے سنتیں مقرر فرما دی ہیں۔دراصل انسانی فطرت کا قاعدہ ہے کہ وہ کسی کام میں توجہ کے جمانے میں کچھ وقت لیتا ہے۔اور جب توجہ کے اختتام کا وقت آتا ہے تو پھر بسا اوقات اس کے اختتام سے قبل ہی اس کی توجہ اکھڑنی شروع ہو جاتی ہے۔اس لئے آگے پیچھے نفلی روزے رکھ کر درمیانی فرض روزوں کو محفوظ کر دیا گیا ہے اور یہی سنت نماز کا فلسفہ ہے۔پس دوستوں کو اس کا بھی خیال رکھنا چاہیئے۔(۱۲) روزوں کے مسائل معروف و معلوم ہیں۔اس لئے ان کے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت نہیں مگر ایک دو باتیں ایسی ہیں جو غالباً ابھی تک عموماً اتنی محسوس و مشہود نہیں ہوئیں جتنی ہونی چاہئیں۔(الف) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارہ میں سخت تاکید فرمائی ہے کہ سحری میں دیر اور افطاری میں جلدی کرنی چاہیئے۔اس میں یہ بھاری حکمت ہے کہ تا جو وقت روزہ کا خدائی حکم کے ماتحت مقرر ہے وہ دوسرے وقت کے ساتھ مخلوظ نہ ہونے پائے۔اگر ایک شخص سورج غروب ہو جانے کے معاً بعد روزہ نہیں کھولتا تو وہ اپنے عمل کو مشکوک کر دیتا ہے۔اور گویا زبان حال سے یہ کہتا ہے کہ کچھ وقت تو میں خدا کی خاطر کھانے پینے سے رُکا رہا اور کچھ وقت اپنی مرضی سے رُکتا ہوں۔اور یہ نظریہ عمل صالح کے لئے سم قاتل ہے۔یہی صورت سحری میں دیر نہ کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ سحری میں زیادہ سے زیادہ دیر کرو۔اور افطاری میں زیادہ سے زیادہ جلدی کرو تا کہ تمہارا کھانے پینے سے رکنا کلیۂ اس وقت کے مطابق ہو جائے جو خدا کا مقرر کردہ ہے۔اور کوئی فالتو وقت اپنی طرف سے زیادہ کر کے اپنے عمل کو مشکوک نہ کرو۔( ب ) شاید اکثر لوگ اس بات سے واقف نہیں کہ جس طرح با وجود اس کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ سورہ فاتحہ کے بغیر نما زنہیں ہوتی ۱۴۴ اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مجبوری سے نماز کی پہلی رکعت میں قیام کے اندر شامل نہیں ہوسکتا بلکہ رکوع میں آکر شامل ہوتا ہے تو با وجود اس کے اس کی رکعت ہو جائے گی۔اسی طرح حدیث میں صراحت آتی ہے کہ اگر سحری کھاتے کھاتے دیر ہو جائے اور مؤذن اذان کہہ دے اور تمہارے ہاتھ میں کھانے پینے کا برتن ہو تو