مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 599 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 599

۵۹۹ مضامین بشیر کے نشانوں کو مٹانا بھی ہے اور یہ صفت تجھے بہت محبوب ہے پس ایسا کر کہ اول تو مجھ سے کوئی بدی ہو ہی نہیں۔اور اگر کبھی ہو جائے تو پھر اپنے فضل و رحم سے اس کے نام ونشان کو ایسا مٹا دے کہ گویا وہ ہوئی ہی نہیں یعنی میں بھی اسے بھول جاؤں لوگ بھی بھول جائیں۔تیرے فرشتے بھی بھول جائیں اور تو خود بھی بھول جائے۔خدا کو نعوذ باللہ نسیان نہیں مگر جس چیز کا وہ نام ونشان مٹا دے اور اس کے ذکر کومحو کر دے اسے وہ گویا بھلا دیتا ہے۔اسی لئے خدا کی عفو کی صفت اس کے تکفیر اور مغفرت کی صفات سے بالا ہے۔(2) روزہ کی حقیقت پر اس دعا کے الفاظ سے بھی بہت روشنی پڑتی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے افطاری کے وقت پڑھنے کا حکم دیا ہے۔یعنی اَللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ ا فطرت سے یعنی اے خدا اگر میں کھانے پینے سے رُکا تھا تو تیرے لئے اور اب کھانے پینے لگا ہوں تو تیرے دیئے ہوئے رزق پر بعینہ وہی مفہوم ہے جو مشہور قرآنی آیت قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ ۳۸ میں بیان کیا گیا ہے۔(۸) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے کہ آپ رمضان میں روزہ کی مخصوص عبادت کے علاوہ مندرجہ ذیل زائد اور نفلی اعمال کی طرف بہت توجہ فرماتے تھے۔(الف) نماز تہجد اور قیام اللیل جو گو یا صیام کی بھی زینت ہے اور جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انتہائی شغف تھا۔( ب ) تلاوتِ قرآن کریم جس کے متعلق حدیثوں میں اشارہ آتا ہے کہ رمضان میں دودفعہ ختم کرنا زیادہ پسندیدہ ہے۔( ج ) صدقہ و خیرات۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ رمضان میں آپ اس کثرت سے صدقہ و خیرات فرماتے تھے کہ جیسے ایک زور سے چلنے والی آندھی ہو جو کسی روک کو خیال میں نہ لائے۔۳۹ے (د) آپ نے روزہ کی روح کی طرف اشارہ کرنے کے لئے یہ بھی فرمایا ہے کہ جو شخص بظا ہر کھانے پینے سے تو رک جاتا ہے مگر جھوٹ اور خیانت اور گالی گلوچ اور دنگا فساد اور بیہودہ گوئی وغیرہ سے نہیں رکتا تو وہ مفت میں بھوکا مرتا ہے کیونکہ اس کا کوئی روزہ نہیں۔(9) رمضان کی ایک خاص عبادت اعتکاف ہے جو آخری عشرہ میں کسی جامع مسجد میں ادا کی جاتی