مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 591 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 591

۵۹۱ مضامین بشیر دنیوی تحریکوں کے ساتھ اس طرح مربوط ہو گیا ہے کہ ایک الہی جماعت جو ہر امر میں خدائی تقدیر کا ہاتھ دیکھنے کی عادی ہوتی ہے ، اسے محض ایک اتفاق قرار دے کر نظر انداز نہیں کر سکتی۔مگر جہاں ہم تقدیر الہی کے اس کرشمہ کو دیکھ کر خوش ہوتے اور اسے ایک نیک اور مبارک فال خیال کر کے خدا کا شکر بجالاتے ہیں ، وہاں یہ غیر معمولی اتفاقِ حسنہ“ جو خدائی قضاء وقدر کا ایک حصہ ہے، ہمیں اس کالج کے متعلق اس بھاری ذمہ داری کی طرف بھی توجہ دلا رہا ہے کہ اس کا لج کو ایسی بنیادوں پر قائم کرو اور اس کا تعلیمی اور تربیتی ماحول ایسا بناؤ کہ وہ آنے والے دو عظیم الشان دینی اور دنیوی دوروں میں اسلام اور احمدیت کی صحیح خدمت سر انجام دے سکے اور اس خطرناک دینی جنگ کے لئے مواد تیار کر سکے جو آنے والے دوروں میں احمدیت اور اسلام کو پیش آنے والا ہے۔جس کے بعد انشاء اللہ خدا کے حکم سے صداقت کی دائمی فتح کا دن مقدر ہے۔پس ہمارا یہ کالج کوئی معمولی چیز نہیں، بلکہ دو ایسے پھیلے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ ہماری طرف بڑھ رہا ہے ، جن میں سے ایک میں اگر ہمارے لئے برکت اور تہنیت کا پیغام ہے تو دوسرے میں ہماری عظیم الشان ذمہ داریوں پر ہمارے لئے ایک خطرناک انتباہ بھی ہے۔اور جب تک ہم مشیت الہی کے ان دونوں ہاتھوں کو غیر معمولی قوت و استقلال کے ساتھ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے ہم کبھی بھی دین و دنیا میں فلاح حاصل نہیں کر سکتے۔و لیکن حق یہ ہے کہ اگر اس موقع پر یہ دو غیر معمولی تقریبات نہ بھی جمع ہوتیں ، تب بھی اس بات کے پیش نظر کہ اللہ تعالیٰ نے احمدیت کے نظام کو موجودہ زمانہ میں جو دنیا کا آخری زمانہ ہے، اقوامِ عالم کی اصلاح کے لئے پیدا کیا ہے۔اور اس طرح جماعت احمد یہ حقیقتہ ایک خدائی فوج کا حکم رکھتی ہے۔اس کا ہر جماعتی اقدام در اصل میدانِ جنگ کی ایک اہم نقل وحرکت کا رنگ رکھتا ہے۔اور اسے کبھی بھی اس کی ظاہری شکل وصورت کی وجہ سے ایک معمولی دنیوی تجویز کے طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔کیونکہ سچ یہ ہے کہ ہمارا ہر ادارہ خواہ وہ بظاہر دنیا کا ہو یا دین کا ، ایک ایسے کارخانہ کے حکم میں ہے جو ایک عظیم الشان اور خطرناک جنگ کے لئے سپاہی ٹرینڈ کرے۔اور سامان بنانے میں مصروف ہو۔جب تک یہ جماعت اس نکتہ کو سمجھے گی اور اسے پیش نظر ر کھے گی اس کا قدم انشاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ ترقی کی طرف اٹھتا چلا جائے گا۔اور شیطان کا کوئی حملہ اسے کسی جہت سے عدم تیاری کی حالت میں نہیں پائے گا۔لیکن جب وہ جماعتی کاموں میں سے بعض کو بظاہر دنیوی سمجھ کر ان کی طرف سے دینی رنگ میں غفلت برتنے لگے گی تو وہ اپنے اس صحیح مقام کو چھوڑ دے گی جس پر اسے خدا قائم رکھنا چاہتا