مضامین بشیر (جلد 1) — Page 590
مضامین بشیر ۵۹۰ ہمارا تعلیم الاسلام کالج دوستوں تک یہ خوشخبری پہنچ چکی ہے کہ حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ کے ارشاد کے ماتحت اس سال سے موجودہ تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کو جس کی بنیا د حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک ہاتھوں آج سے قریباً ۴۵ سال پہلے رکھی گئی تھی۔کالج کے معیار تک بڑھا دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جس کی منظوری یونیورسٹی پنجاب سے بھی حاصل ہوچکی ہے اور انشاء اللہ اس سال ماہ مئی کے آخر سے مجوزہ کالج کا افتتاح ہو جائے گا۔یہ کالج فی الحال ایف۔اے اور ایف۔الیں۔سی کے معیار تک ہوگا لیکن تجویز ہے کہ اگر خدا چاہے تو جلدی ہی اسے بی۔اے ، ایم۔اے تک ترقی دے دی جائے۔یوں تو دنیا میں لاکھوں کا لج ہوں گے اور ظاہری تعلیم کے لحاظ سے دنیا میں بہتر سے بہتر کالج موجود ہیں اور خود پنجاب کے اندر بھی بہت سے عمدہ عمدہ کالج پائے جاتے ہیں۔اور اس لحاظ سے جماعت کا یہ فیصلہ بظاہر کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا سوائے اس کے کہ ایک ہائی سکول کو ترقی دے کر کالج بنا دیا گیا ہے۔لیکن اگر ہم جماعت احمدیہ کے اہم دینی مقاصد کے ماتحت جماعت کے مخصوص حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اس تجویز پر نظر ڈالیں تو پھر کسی عظمند کے لئے اس تجویز کی اہمیت مخفی نہیں رہ سکتی۔سب سے پہلی خصوصیت جو اس کالج کو حاصل ہے ، یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے تصرف خاص کے ماتحت اس کے اجراء کو تاریخ احمدیت کے اس زمانہ کے ساتھ پیوند کر دیا ہے جو حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کے دعوئی مصلح موعود کے ماتحت جماعت کے لئے ایک نئے دور کا حکم رکھتا ہے۔گویا منجملہ دوسری مبارک تحریکات کے جو اس وقت جماعت کے سامنے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کالج کو بھی نئے دور کی نشانیوں میں سے ایک نشانی بنادیا ہے۔اور اس طرح یہ کالج خدا کے فضل سے گویا اپنے جنم کے ساتھ ہی اپنے ساتھ خاص برکت و سعادت کا پیغام لا رہا ہے۔فالحمد للہ علی ذالک دوسری خصوصیت اس کالج کو خدا تعالیٰ نے یہ دے دی ہے کہ وہ تاریخ عالم کے لحاظ سے بھی موجودہ جنگ عظیم کے آخری حصہ میں عالم وجود میں آ رہا ہے۔اور جنگ کا یہ حصہ وہ ہے جب کہ دنیا کے بہترین سیاسی مدبر دنیا کے بعد الحرب نئے نظام کے متعلق بڑے غور و حوض سے تجویز میں سوچ رہے اور غیر معمولی اقدامات عمل میں لا رہے ہیں۔اس لحاظ سے ہمارا یہ کالج دو عظیم الشان دینی اور