مضامین بشیر (جلد 1) — Page 587
۵۸۷ مضامین بشیر فرماتے ہیں کہ وہ مومن کے لئے شہادت ہوتی ہے ۳۰۔پھر ساڑھے تین ماہ کی طویل علالت جو اپنی ذات میں تکفیر سیات اور رفع درجات کا بھاری ذریعہ ہے۔پھر اس بیماری میں جماعت کے اندر مرحومہ کے لئے خاص دعاؤں اور صدقہ و خیرات کی ایسی غیر معمولی تحریک جس کی نظیر نہیں ملتی۔پھر عین وفات کے وقت مرحومہ کے اردگرد تلاوت قرآن اور دعاؤں کا غیر معمولی ماحول۔پھر جنازہ میں مومنوں کا عدیم المثال اجتماع جو ساری تاریخ احمدیت میں حقیقتہ بے نظیر تھا۔پھر جنازہ کی نماز میں غیر معمولی خشوع خضوع جس کی وجہ سے یوں محسوس ہوتا تھا کہ لوگوں کے دل پکھل پکھل کر باہر آرہے ہیں۔پھر قبر پر حضرت خلیفتہ امی الثانی ایدہ اللہ کی مومنوں کی جماعت کے ساتھ انتہائی سوز ودرد کی دعائیں اور بالآخر مرحومہ کی وفات پر بہت سی نیک تحریکات کا آغاز مثلاً مسجد مبارک کی توسیع وقف جائیداد کی تحریک وقف زندگی کی جدید تحریک۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک مزار پر ترقی اسلام کے لئے روزانہ دعاؤں کا اہتمام وغیرہ ذالک۔یہ سب تحریکات ایسی ہیں جو مرحومہ کی وفات سے براہ راست تعلق رکھتی ہیں اور انشاء اللہ مرحومہ کی روح ان سب مبارک تحریکوں کے غیر معمولی ثواب سے حصہ وافر پائے گی۔پھر مرحومہ کی وفات تو مقدر تھی ہی مگر خدا نے ایسا تصرف فرمایا کہ ان کی بیماری کو لمبا کر کے ان کی موت کو اس وقت تک روکے رکھا جب تک حضرت خلیفۃ اسیح ایدہ اللہ پر پسر موعود کا انکشاف نہ فرما دیا۔اور اس طرح مرحومہ نے اپنی وفات سے پہلے اس عظیم الشان خوشخبری کو اپنے کانوں سے سُن لیا کہ ان کا سرتاج مصلح موعود ہے۔اور اس خبر سے انہوں نے بے حد راحت حاصل کی اور عجیب بات یہ ہے کہ مرحومہ کی بیماری ہی اس سفر کا باعث بنی جس میں حضرت خلیفہ اسی پر مصلح موعود کے بارے میں انکشاف ہوا۔یہ سب باتیں ہمارے خدائے قدیر کی قدرت نمائی کا زبر دست کرشمہ ہیں۔جس نے ہماری مرحومہ بہن کی زندگی اور موت دونوں کو روحانی مٹھاس سے بھر دیا۔اور یہ مٹھاس ایک صاحب دل شخص کے لئے اتنی غالب ہے کہ اس کے مقابل میں جدائی کی تلخی اپنی انتہائی شدت کے باوجود اپنی تلخی کو کھو کھو دیتی ہے مگر ہمارے خدا نے اپنی ازلی حکمت کے ماتحت انسان کو صرف روح ہی نہیں دی بلکہ اس کے ساتھ گوشت پوست کا ڈھانچہ بھی عطا کیا ہے۔پس گو ہماری روح اس روحانی شیرینی کی طرف سرور میں آ آ کر لپکتی ہے لیکن جسم کمزور ہے اور تلخی کے بوجھ کے نیچے ٹو ٹا جا رہا ہے مگر ہم سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہتے کہ : - نرضى بما يرضى به الله وانا بفراقك يا اخت لمحزنون وانا لله وانا اليه راجعون