مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 584 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 584

مضامین بشیر ۵۸۴ دوسرے اس میں آنے جانے کے اوقات کی ویسی سخت پابندیاں نہیں تھیں جیسی کہ لیڈی لنگٹن ہسپتال میں تھیں اور تیسرے یہ کہ اس جگہ کا ماحول تقریباً اپنے اختیار میں تھا۔جہاں اپنا مخصوص مذہبی اور روحانی رنگ آسانی سے پیدا کیا جا سکتا تھا۔مگر تقدیر کے نوشتے بہر حال پورے ہونے تھے۔حالت یہاں بھی خراب ہی ہوتی گئی۔اور آخر ۵ مارچ ۱۹۴۴ء کو اتوار کے دن اڑھائی بجے سہ پہر کو قریباً ۳۹ سال کی عمر میں ہماری بہن نے داعی اجل کو لبیک کہا اور اپنے آقا و مالک کے حضور پہنچ گئیں۔فانالله وانا اليه راجعون وكل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذو الجلال والاكرام آخری لمحے یوں تو کچھ عرصہ قبل سے ہی ہمشیرہ کی حالت بے حد تشویش ناک ہو رہی تھی۔اور آنے والا خطرہ ہر دم قریب آتا نظر آتا تھا۔اور ۵ مارچ سے قبل کی ساری رات حضرت صاحب اور ہم سب ہسپتال میں ٹھہرے رہے تھے۔لیکن ۵ مارچ کو دس بجے صبح کے قریب کرنیل بھر وچہ اور حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کی متفقہ رائے کے ماتحت یہ بات معین طور پر سمجھ لی گئی تھی کہ اب بظا ہر اس فانی دنیا میں سیدہ مرحومہ کے آخری لمحات ہیں۔اس وقت حضرت صاحب نے مجھے فرمایا کہ اب مناسب ہے کہ مرحومہ کے بچوں کو ( عزیز طاہر احمد سلمہ کے سوا جو قادیان میں تھا اس وقت سارے بچے لا ہور ہی میں موجود تھے ) بلا کر ان کی والدہ سے ملا دیا جائے مگر بچوں کو سمجھا دیا جائے کہ ماں کے سامنے ضبط سے کام لیں تا کہ سیدہ 66 مرحومہ کے دل کو کوئی فوری دھکا نہ پہنچے۔“ اس وقت بچوں کو اور حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا کو اور دوسرے عزیزوں کو گھر سے بلالیا گیا۔اور سب نے باری باری مرحومہ کے کمرے میں جا کر انہیں اس فانی دنیا میں آخری نظر دیکھ لیا۔اور انہیں اپنی آخری دعا دی اور ان کی آخری دعا لی۔اس وقت تک مرحومہ پوری ہوش میں تھیں اور میں دیکھتا تھا کہ وہ کامل سکون کے ساتھ لیٹی ہوئی تھیں۔اور ہر اندر جانے والے کی طرف ان کی محبت کی آنکھیں اُٹھتی تھیں۔اور دعائیہ فقروں کے ساتھ ہونٹ ہلتے جاتے تھے۔جب ان کی چھوٹی بچی عزیزہ امتہ الجمیل سلمہا جس کی عمر صرف سات سال کی ہے۔ان کے سامنے گئی تو مرحومہ نے اپنا کمزور ہاتھ اٹھا کر اس کے سر پر رکھا اور اور ایک سیکنڈ کے لئے اپنی آنکھیں