مضامین بشیر (جلد 1) — Page 585
۵۸۵ مضامین بشیر بند کر لیں مگر اس سارے عرصہ میں ایسے صبر اور ضبط کا نمونہ دکھایا کہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کی محتا نہ توجہ اس وقت حضرت صاحب کا یہ حال تھا کہ بار بار کمرے کے اندر جاتے اور قرآن کریم اور مسنون دعاؤں کی تلاوت فرماتے اور پھر دعا کرتے ہوئے باہر آ جاتے اور برآمدہ میں ٹہلنے لگتے اور درمیانی عرصہ میں حضرت صاحب کی جگہ ہمارے ماموں جان ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب اور مکرمی ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اور دوسرے عزیز قرآن شریف پڑھنے لگتے اور سب کی مشترکہ آواز سے کمرہ قرآنی دعاؤں سے گونج رہا تھا۔یہ ایک عجیب نظارہ تھا جو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ خدائی حکم کے ماتحت آسمانی صناعوں نے ان غم کی گھڑیوں کو روحانیت کی مخلوط تاروں کے ساتھ ملا جلا کربن دیا ہے۔اس وقت میں جب بھی کمرہ کے اندر گیا یا جب بھی میں نے دروازہ کھول کر کمرے کے اندر جھانکا ( کیونکہ بعض اوقات میں کمرے کے اندر جانے کی ہمت نہیں پاتا تھا ) میری آنکھوں نے یہی نظارہ دیکھا کہ ہمشیرہ مرحومہ کی آنکھیں محبت سے بھرے ہوئے جذبات کے ساتھ کمرہ کے مختلف حصوں میں اپنے عزیزوں پر آخری نظر ڈالنے کے لئے چاروں طرف گھومتی تھیں اور مرحومہ کے ہونٹ دعائیہ الفاظ کے ساتھ برابر ملتے جاتے تھے۔البتہ جب حضرت صاحب کمرہ کے اندر جاکر اور مرحومہ کے منہ کی طرف جھک کر قرآنی آیات پڑھتے تھے تو مرحومہ کی نظریں حضور کے چہرے پر جم جاتی تھیں اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ انہوں نے اپنی حقیقی قرار گاہ کو پالیا ہے۔پُرسکون انجام اس منظر کا نمایاں پہلو سکینت کے لفظ میں مرکوز تھا اور یوں نظر آتا تھا کہ ایک بادبانوں والی کشتی ایک پہاڑوں سے گھری ہوئی جھیل کی ہلکی ہلکی لہروں پر آہستہ آہستہ حرکت کرتے ہوئے اپنی آخری گھاٹ کے قریب پہنچ رہی ہے۔مرحومہ کے چہرے پر کرب اور اضطراب کا نام ونشان تک نہیں تھا۔بلکہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کامل سکون اور انتہائی طمانیت کے ساتھ اپنی جان کو خود ہتھیلی پر رکھے ہوئے اپنے آقا و مالک کو اس کی آخری امانت واپس کرنے کیلئے خراماں خراماں آگے بڑھ رہی ہیں۔موت کے وقت کی یہ حالت عام لوگوں کے لحاظ سے بھی غیر معمولی ہے مگر ہمشیرہ مرحومہ کے لحاظ سے تو وہ حقیقۂ محیر العقول تھی کیونکہ سیدہ مرحومہ زندگی کے جذبات سے اس قدر معمور تھیں کہ ان کے متعلق