مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 583 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 583

۵۸۳ مضامین بشیر کے خیال سے اس تجویز کو منظور نہیں کیا۔اور میں نے بھی ان کی حساس طبیعت ہونے کی وجہ سے ان کی مرضی کے خلاف قدم اٹھانا نہیں چاہا۔بہر حال بیماری جلد جلد بڑھتی گئی۔اور اس عرصہ میں حضرت صاحب بھی اپنی حالت میں کسی قدرا فاقہ ہونے پر باوجود نقاہت اور کمزوری کے تشریف لے آئے۔اور اپنی خدمت گزار اور وفا دار اور جاں نثار بیوی کی خدمت میں ہمہ تن مصروف ہو گئے۔اور پھر آخر تک اس خدمت کو اس محبت اور اس شفقت اور اس وفاداری اور اس قربانی کے ساتھ نباہا کہ آپ کا یہ اُسوہ ہم سب کے لئے ہمیشہ کے واسطے ایک پاک نمونہ کا کام دے گا۔لاہور میں علاج جب قادیان میں افاقہ کی صورت نہ ہوئی تو آخری طبی مشورہ کے ماتحت حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ ۱۷ دسمبر ۱۹۴۳ء کو بروز جمعہ سیدہ مرحومہ کو لاہور لے گئے۔اور لیڈی لینگٹن ہسپتال میں داخل کرا دیا اور پانچ میل کی لمبی مسافت طے کر کے صبح شام دونوں وقت ان کی عیادت کے لئے ہسپتال تشریف لے جاتے رہے۔ہسپتال میں ابتداء افاقہ کی صورت پیدا ہوئی مگر پھر حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ ڈاکٹر کرنیل ہنیر کو ۱۴ جنوری ۱۹۴۴ء کو بروز جمعہ پیٹ کا اپریشن کرنا پڑا۔اور چند دن بعد پھر ایک دوسرا آپریشن ہوا۔مگر حالت دن بدن بگڑتی اور کمزوری بڑھتی ہی چلی گئی۔آخر جب یہ دیکھا گیا کہ اس ہسپتال کے ڈاکٹر اپنا زور لگا کر ہمت ہار چکے ہیں۔اور اس جگہ کی پابندیاں بھی ایسی تھیں جو اس مذہبی اور روحانی ماحول کی منافی تھیں جو ایک مسلمان کو اپنے آخری لمحات میں حاصل ہونا چاہیئے تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ نے حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب اور اس خاکسار کو فون کر کے لاہور بلوایا تا کہ مشورہ کیا جا سکے کہ کیوں نہ پیش آمدہ حالات میں سیدہ ام طاہر کو احتیاط کے ساتھ قادیان پہنچا دیا جائے اور وہاں اپنی نگرانی میں علاج کیا جائے۔چنانچہ ہم دونوں لاہور پہنچے اور سیدہ مرحومہ کی بیماری میں ہمارا یہ چوتھا سفر تھا۔لیکن چونکہ ان کی حالت زیادہ کمزور پائی گئی ، اس لئے بالآخر یہی تجویز ہوئی کہ کسی اور ماہر ڈاکٹر کو دکھا کر کسی دوسرے ہسپتال میں منتقل کر لیا جائے۔چنانچہ کرنیل بھر وچہ کے ساتھ بات کر کے اور انہیں آماده پا کر ۲۶ فروری ۱۹۴۴ء کو بروز ہفتہ سیدہ مرحومہ کو سر گنگا رام ہسپتال میں ایک ایمبولینس کار کے ذریعہ احتیاط کے ساتھ منتقل کر دیا گیا۔اور اس انتقال ہسپتال کے تعلق میں کرنیل ہنیر نے بھی بطیب خاطر امداد دی۔نئے ہسپتال میں کرنیل بھر وچہ خود دو وقت دیکھتے اور خود پٹی کرتے تھے۔اور حضرت صاحب کو یہ سہولت تھی کہ اول تو یہ ہسپتال حضور کی قیام گاہ کے بالکل قریب تھا۔