مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 52 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 52

مضامین بشیر ۵۲ کر دیا ہو۔متقدمین کی تصنیفات تو قریباً قریباً کلیتہ صرف اصول روایت پر ہی مبنی ہیں اور درایت کے اصول کی طرف انہوں نے بہت کم توجہ کی ہے۔البتہ بعد کے مورخین میں سے بعض نے درایت پرزور دیا ہے لیکن انہوں نے بھی اصل بنیا دروایت پر ہی رکھی ہے اور درایت کو ایک حد مناسب تک پر کھنے اور جانچ پڑتال کرنے کا آلہ قرار دیا ہے اور یہی سلامت روی کی راہ ہے۔واقعی اگر ایک بات کسی ایسے آدمی کے ذریعہ ہم تک پہنچتی ہے جو صادق القول ہے اور جس کے حافظہ میں بھی کوئی نقص نہیں اور وہ فہم وفراست میں بھی اچھا ہے اور روایت کے دوسرے پہلوؤں کے لحاظ سے بھی وہ قابل اعتراض نہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس کی روایت کو صرف اس بناء پر رڈ کر دیں کہ وہ ہماری سمجھ میں نہیں آتی یا یہ کہ ہمارے خیال میں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طریق عمل یا تحریروں کے مخالف ہے۔کیونکہ اس کا یہ مطلب ہوگا کہ ہم واقعات کو اپنے محدود استدلال بلکہ بعض حالتوں میں خود غرضانہ استدلال کے ماتحت لانا چاہتے ہیں۔خوب سوچ لو کہ جو بات عملاً وقوع میں آگئی ہے یعنی اصول روایت کی رو سے اس کے متعلق یہ قطعی طور پر ثابت ہے کہ وہ واقعی ہو چکی تو پھر خواہ ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے یا ہمارے استدلال کے موافق ہو یا مخالف ہمارا فرض ہے کہ ہم اسے قبول کریں سوائے اس کے کہ وہ کسی ایسی نص صریح کے مخالف ہو جس کے مفہوم کے متعلق امت میں اجماع ہو چکا ہو۔مثلاً یہ بات کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا ہر احمدی کہلانے والے کے نزدیک مسلم ہے اور کوئی احمدی خواہ وہ کسی جماعت یا گروہ سے تعلق رکھتا ہو اس کا منکر نہیں۔پس ایسی صورت میں اگر کوئی ایسی روایت ہم تک پہنچے جس میں یہ مذکور ہو کہ آپ نے کبھی بھی مسیح موعود ہونے کا دعوی نہیں کیا خواہ بظاہر وہ درایت مضبو ط ہی نظر آئے ہم اسے قبول نہیں کریں گے اور یہ سمجھ لیں گے کہ راوی کو (اگر وہ سچا بھی ہے ) کوئی ایسی غلطی لگ گئی ہے جس کا پتہ لگا نا ہمارے لئے مشکل ہے کیونکہ وہ حضرت مسیح موعود کی صریح تحریرات ( یعنی ایسی تحریرات جن کے مفہوم کے متعلق کوئی اختلاف نہیں ہے ) کے مخالف ہے، لیکن اگر کوئی روایت ہمیں مسئلہ نبوت یا کفر و اسلام یا خلافت یا جنازہ غیر احمد یاں وغیرہ کے متعلق ملے اور وہ اصول روایت کے لحاظ سے قابل اعتراض نہ ہو تو خواہ وہ ہمارے عقیدہ کے کیسی ہی مخالف ہو ہمارا فرض ہے کہ اسے دیانتداری کے ساتھ درج کریں اور اس سے استدلال واستنباط کرنے کے سوال کو ناظرین پر چھوڑ دیں تا کہ ہر شخص اپنی سمجھ کے مطابق اس سے فائدہ اٹھا سکے اور علمی تحقیق کا دروازہ بند نہ ہونے پائے۔اور اگر ہم اس روایت کو اپنے خیال اور اپنی درایت کے مخالف ہونے کی وجہ سے ترک کر دیں گے تو ہمارا یہ فعل کبھی بھی دیانتداری پر مبنی نہیں سمجھا جا سکتا۔