مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 576 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 576

مضامین بشیر ہوگئیں۔اور مصروف بھی اس طرح ہوئیں کہ نصف شب کو اُٹھ کر سب روزہ داروں کے لئے خود اپنے ہاتھ سے پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ پر اٹھے پکاتی تھیں اور باورچی کو دوسری خدمت کے لئے خالی کر دیا تھا۔یہ پراٹھے صرف اپنے عزیزوں اور مہمانوں کے لئے ہی نہیں ہوتے تھے بلکہ نوکر اور خادم بھی اس میں برابر کے شریک تھے کیونکہ سیدہ مرحومہ رمضان کے مبارک مہینہ میں سب کی خدمت کا یکساں ثواب حاصل کرنا چاہتی تھیں۔میں نے سنا ہے کہ ان ایام میں وہ رات کو دو تین گھنٹہ سے زیادہ نہیں سوسکتی تھیں اور چونکہ وہ ابھی ابھی ایک لمبی بیماری سے اٹھی تھیں اور ڈلہوزی کے بعد بہت جلد اپنی آخری بیماری میں مبتلا ہوگئیں۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ان کی مرض الموت میں ڈلہوزی کے ایام کی غیر معمولی محنت اور کوفت کا بھی ضرور دخل تھا مگر یہ ساری محنت انہوں نے انتہائی محبت اور اخلاص کے ساتھ خود اپنے ذمہ لی تھی اور بڑے اور چھوٹے اور آقا اور نوکر کا کوئی امتیاز نہیں رکھا تھا۔ڈلہوزی میں جو بہشتی پانی بھرنے کے لئے قادیان سے گیا تھا وہ چونکہ بہت مشقت کا کام کرتا تھا اور کچھ بیمار بھی تھا۔اس لئے وہ روزہ نہیں رکھتا تھا۔مگر سیدہ مرحومہ کے ہاتھ سے پراٹھے تقسیم ہوتے دیکھ کر وہ سیدہ مرحومہ کے پاس گیا اور کہنے لگا آپا جان سب کو پر اٹھے ملتے ہیں مگر مجھے نہیں ملتا۔سیدہ موصوفہ نے فرمایا میں تو روزہ داروں کے لئے پکاتی ہوں اور تم روزہ نہیں رکھتے۔اگر تم روزہ رکھو تو تمہیں بھی بڑی خوشی سے پکا دیا کروں گی۔اُس نے کہا میں بھی روزہ رکھا کروں گا۔سیدہ موصوفہ نے کہا پھر میں تمہیں بھی ضرور دیا کروں گی۔چنانچہ ہمشیرہ مرحومہ کی برکت سے یہ غریب بہشتی روزہ دار بھی بن گیا اور پراٹھے بھی کھانے لگا۔غربا کی خدمت اور ان کی امداد کا غیر معمولی جذبہ جیسا کہ اوپر کے واقعہ سے بھی ظاہر ہے کہ سیدہ ام طاہر مرحومہ میں غربا کی خدمت اور غرباء کی امداد کا وصف بھی خاص طور پر پایا جاتا تھا دراصل چونکہ ان کے دل کو خالق فطرت کی طرف سے جذبات کا غیر معمولی خمیر ملا تھا۔اس لئے جب بھی وہ کسی غریب یا بیمار یا مصیبت زدہ کو تکلیف میں دیکھتی تھیں تو اُن کا دل بے چین ہونے لگتا تھا اور وہ فوراً اس کی امداد کے لئے تیار ہو جاتی تھیں۔چنانچہ اُن کے گھر میں غریبوں ، بیواؤں اور یتیموں کا تانتا لگا رہتا تھا اور وہ مقدور بھر سب کی امداد کرتی تھیں۔یعنی اگر کسی مصیبت زدہ کی خود مدد کر سکتی تھیں تو خود کر دیتی تھیں اور اگر کسی ناظر یا کسی اور شخص کو کچھ کہنا ہوتا تھا تو اُسے کہلا بھیجتی تھیں اور اگر حضرت صاحب تک معاملہ پہنچانا ضروری ہوتا تھا تو حضور تک پہنچا دیتی تھیں۔میں نے دیکھا ہے کہ جہاں حضور کی دوسری بیویاں حضور کی مصروفیت کا خیال