مضامین بشیر (جلد 1) — Page 574
مضامین بشیر ۵۷۴ اسے کامیاب بنانے میں کوشاں رہتا ہے تو با وجود اس کی بعض کمزوریوں کے اللہ تعالیٰ اس پر موت نہیں آنے دیتا۔جب تک کہ اس کے ایسے سامان نہ پیدا کر لے جو اس کے لیے جنت کا رستہ صاف کر دیں۔اللہ اللہ ہمارا خدا بھی کیسا عجیب وغریب خدا ہے۔جو اپنے ظاہری قانون کو بھی پورا کر لیتا ہے اور اپنی زبر دست مشیت کو بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑتا اور بہر حال کرتا وہی ہے جو وہ چاہتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیا خوب فرماتے ہیں ؎ تیرے اے میرے مربی کیا عجائب کام ہیں گرچہ بھا گئیں جبر سے دیتا ہے قسمت کے ثمار مگر یہ جبر ظلم و تعدی کا جبر نہیں بلکہ شفقت و رحمت کا جبر ہے کیونکہ جس طرح ایک محبت کرنے والا باپ اپنے بیٹے پر انعام کرنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے۔اسی طرح ہما را آسمانی باپ بھی جب اپنے کسی بندہ پر انعام کرنا چاہتا ہے اور اپنے کسی قانون کو اس انعام کے رستہ میں بظاہر روک پاتا ہے۔تو اپنی گونا گوں مشیت کے بہانے تلاش کر کے اس کے لئے انعام کے نئے دروازے کھول دیتا ہے۔کیونکہ وہ خود فرماتا ہے کہ وہ اپنے قانون کا غلام نہیں بلکہ اپنے حکم پر بھی غالب اور حاکم ہے۔ہاں یہ ضروری ہے کہ بندہ اس کا باغی نہ ہو بلکہ ایک پیار کرنے والے بچہ کی طرح اس کے دامن کے ساتھ چمٹا ر ہے۔انتظامی قابلیت اور چند دلچسپ گھر یلو واقعات ایک ضمنی بحث میں پڑ کر اپنے اصل مضمون کو چھوڑ گیا۔میں یہ بیان کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری مرحومہ بہن سیدہ ام طاہر احمد میں بہت سی خوبیاں ودیعت کی ہوئی تھیں اور ان خوبیوں میں غالباً سب سے نمایاں اور سب سے ممتاز خوبی جماعتی کاموں میں حصہ لینا تھی۔اس کے علاوہ مرحومہ اپنی انتظامی قابلیت میں بھی بہت نمایاں تھیں۔اور ان کی یہ قابلیت جماعتی کا موں اور خانگی امور ہر دو میں یکساں ظاہر ہوتی تھی۔یہ اسی وصف کا نتیجہ تھا کہ ہر موقع پر اور ہر مجلس میں وہ گو یا طبعی طور پر آگے آجاتی تھیں۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بھی عموماً خاص موقعوں کے انتظامات انہی کے سپر دفرمایا کرتے تھے۔مثلاً گھر کی خاص دعوتوں کا انتظام انہی کے سپر د ہوتا تھا۔یا کوئی خاص مہمان آجا تا تو اس کی مہمانی کا انتظام بھی زیادہ تر ان کے سپرد کیا جاتا تھا یا اگر کسی سفر کی تیاری کرنی ہوتی تھی تو ایسی تیاری کی انچارج بھی بالعموم وہی ہوا کرتی تھیں۔اسی طرح سفروں کے درمیان میں ٹرپ یعنی تفریحی سیروں کا انتظام بھی عام طور پر وہی کیا کرتی تھیں۔چنانچہ اس وقت مجھے گذشتہ سفر ڈلہوزی کا ایک چھوٹا