مضامین بشیر (جلد 1) — Page 571
تھیں ۵۷۱ مضامین بشیر کچھ عرصہ پہلے تک جبکہ وہ ہماری ایک دوسری محترم بہن کی علالت کی وجہ سے ان کی جگہ صدر مقرر ہوگئی وہ برابر اس عہدہ پر فائز رہیں مگر یہ ایک عجیب بات ہے کہ (میری دوسری بہنیں مجھے معاف فرمائیں کہ ان کی بہت سی خوبیوں کے باوجود مجھے اس جگہ یہ ریمارک کرنا پڑا ہے ) جب تک ہمشیرہ سیدہ ام طاہر سیکرٹری رہیں سیکرٹری کا عہدہ ہی سب کچھ تھا اور صدر کا عہدہ قریباً برائے نام تھا لیکن جب سیدہ موصوفه صد ر مقرر ہوئیں اور ان کی جگہ ہماری ایک اور بہن سیکرٹری مقرر ہوئیں تو اس کے بعد صدر کا عہدہ ہی سب کچھ ہو گیا۔اور سیکرٹری کا عہدہ قریباً برائے نام رہ گیا۔ممکن ہے یہ خیال کیا ہائے کہ سیدہ مرحومہ اس طرح کام پر چھا جاتی تھیں کہ دوسروں کے لئے بہت کم گنجائش باقی رہتی تھی۔مگر میں کہتا ہوں کہ کیا قرآن شریف نے اسلام کی خدمت کو ایک دوڑ کے ساتھ تشبیہ نہیں دی ؟ اور ظاہر ہے کہ جو شخص دوڑ میں آگے نکلے گا وہ بعض حالات میں کسی حد تک دوسروں کا رستہ بھی رو کے گا۔لیکن اس کی وجہ سے آگے نکل جانے والا قابل ملامت نہیں سمجھا جا سکتا اور نہ پیچھے رہنے والا معذور خیال کیا جا سکتا ہے۔میں نے یہ ذکر اس لئے بھی کیا ہے کہ اب بھی وقت ہے کہ ہمارے خاندان کی دوسری مستورات جو خدا کے فضل سے ذاتی طور پر دینی جذبات سے معمور ہیں ، جماعتی کاموں میں زیادہ حصہ لینے کی کوشش کریں اور مرحومہ کی روایات کو نہ صرف زندہ رکھیں بلکہ اور بھی ترقی دے کر ایک اعلیٰ نمونہ اپنے پیچھے چھوڑ ہیں۔لمسہ سالانہ اور مشاورت کے موقعوں پر سیدہ مرحومہ کی خدمات جماعتی کاموں میں سے ایک خاص کام جلسہ سالانہ اور مجلس مشاورت کے موقعوں پر مستورات کے جلسوں کا انتظام کرنا ہوتا ہے۔مرحومہ جب تک زندہ رہیں گویا اس سارے انتظام کی جان اور روح در واں تھیں۔ان کی یہ عادت تھی کہ کام کے ہر حصہ کی طرف ذاتی توجہ دیتی تھیں اور ان موقعوں پر دن رات ایک کر دیتی تھیں اور ان میں یہ ملکہ تھا کہ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی پورے شوق اور انہماک کے ساتھ لگائے رکھتی تھیں۔مرحومہ کی زندگی میں صرف گزشتہ جلسہ سالانہ ہی ایسا جلسہ آیا تھا جبکہ وہ لاہور میں شدید بیمار ہونے کی وجہ سے جلسہ میں شرکت نہیں کر سکیں۔مگر یہ جدائی جہاں خودان کے لئے بے حد شاق تھی وہاں ان کے ساتھ کام کرنے والیوں کے لئے بھی انتہائی دردوالم کا منظر پیش کرنے والی تھی۔اور میں نے بہت سی عورتوں کو ان کی غیر حاضری کے متعلق آنسوؤں اور آہوں کے ساتھ ذکر کرتے سنا ہے۔جلسہ کے بعد جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بیماری