مضامین بشیر (جلد 1) — Page 568
مضامین بشیر۔۵۶۸ کے غیر معمولی جذبات سے گرما دیتی ہے۔جیسا کہ جاننے والے دوست جانتے ہیں حضرت شاہ صاحب مرحوم اور ان کی زوجہ محترمہ نہائت درجہ نیک اور پاک نفس بزرگ تھے۔حتیٰ کہ ایک روایت کے مطابق خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ ان کے اور ان کے خاندان کے متعلق و بہشتی شیر“ کے الفاظ فرمائے تھے۔اور سیدہ ام طاہر احمد مرحومہ بھی ہمیشہ اپنے مرحوم والدین کو انتہائی رقت اور محبت کے ساتھ یاد کیا کرتی تھیں۔اور ان کی درد بھری دعاؤں سے محروم ہو جانے کا از حد قلق رکھتی تھیں۔ابھی چند مہینہ کی بات ہے کہ ہمشیرہ مرحومہ کو کسی معاملہ میں ایک پریشانی لاحق ہوئی تو انہوں نے مجھے بھی دعا کے لئے کہا اور ساتھ ہی یہ ذکر کر کے بے اختیار رو پڑیں کہ بڑے شاہ صاحب میرے لئے بہت دعا ئیں کیا کرتے تھے۔سیدہ اُم طاہر احمد کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وصیت ۱۹۰۷ ء کے وسط میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کا آخری زمانہ تھا۔ہمارا چھوٹا بھائی مبارک احمد مرحوم بیمار ہوا۔گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس کے متعلق اشارۃ معلوم ہو چکا تھا کہ وہ غالباً بچپن میں ہی وفات پا جائے گا مگر چونکہ مستقبل کا آخری علم صرف خدا کے ہاتھ میں ہے آپ نے اس بیماری میں اس کے علاج میں انتہائی جد و جہد سے کام لیا۔اور بیماری کے ایام میں ہی نیک فال کے طور پر اس کی شادی کی بھی تجویز فرما دی۔حالانکہ اس وقت اس کی عمر صرف آٹھ سال کی تھی۔اس شادی کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہماری مرحومہ بہن سیدہ مریم بیگم تو راللہ مرقدہا کو منتخب فرمایا اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک ہاتھوں سے ہی ہمارے خاندان کے ساتھ ہمیشہ کے لیئے پیوند ہو گئیں۔اس وقت ان کی عمر غالباً دو اڑھائی سال کی ہوگی۔کیونکہ مجھے یاد ہے کہ مبارک کی شادی کے ایام میں ہم انہیں اکثر اپنی گود میں اٹھائے پھرتے تھے۔جب مبارک احمد بقضائے الہی فوت ہو گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت ام المومنین متـعـنـا الـلـه بطول حياتها كو وصیت فرمائی کہ یہ لڑکی اب ہمارے نام کی ہو چکی ہے۔اب اسے کسی دوسری جگہ نہ جانے دینا بلکہ ہمارے تین لڑکوں میں سے ہی کوئی لڑکا اس کے ساتھ شادی کر لے۔چنانچہ آپ کی اس وصیت کے ما تحت اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ کو اوائل ۱۹۲۱ء میں تو فیق عطا فرمائی کہ آپ نے انہیں اپنے ساتھ عقد زوجیت میں منسلک کر لیا اور اس طرح ہماری یہ بہن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دہری بہو بن گئیں۔